اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 382
حاب بدر جلد 3 382 حضرت عثمان بن عفان مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا میری امت میں سے میری امت پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابو بکر نہیں۔اللہ کے دین میں ان سب سے زیادہ مضبوط عمر نہیں۔ان میں سب سے زیادہ حقیقی حیا والے عثمان ہیں۔ان میں سے سب سے عمدہ فیصلہ کرنے والے علی بن ابی طالب ہیں۔ان میں سے سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کو جاننے والے اُبی بن کعب نہیں اور ان میں سے سب سے زیادہ حلال و حرام کو جاننے والے معاذ بن جبل نہیں اور ان میں سے سب سے زیادہ فرائض کو جاننے والے زید بن ثابت نہیں۔سنو ہر امت کے لیے ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جرات ہیں۔736 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علی کرم نے فرمایا میری امت پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابو بکر نہیں اور اللہ کے احکام کی تعمیل و تنفیذ میں ان میں سب سے زیادہ مضبوط عمر نہیں اور ان میں سب سے زیادہ حیا کرنے والے عثمان ہیں۔7 737 738 حضرت عثمان بن عفان فرماتے ہیں کہ نہ میں نے کبھی لا پروائی کی اور نہ میں نے کبھی تمنا کی۔یعنی خلافت کی یا کسی بھی عہدے کی یا جھوٹی تمنا نہیں کی۔حضرت عائشہ آپ کی حیا کے بارے میں روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صل الی تم میرے گھر میں اپنی رانوں یا پنڈلیوں سے کپڑا ہٹائے ہوئے لیٹے تھے کہ حضرت ابو بکر نے اجازت مانگی تو آپ نے اسی حالت میں انہیں اجازت دی۔پھر آپ باتیں کرنے لگے۔پھر حضرت عمر نے اجازت مانگی تو آپ نے اسی حالت میں انہیں بھی اجازت دے دی۔پھر بھی آپ باتیں کرتے رہے۔پھر جب حضرت عثمان نے اجازت مانگی تو رسول اللہ صل اللہ تم بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو ٹھیک کیا۔محمد جو راوی ہیں کہتے ہیں کہ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ سب ایک دن میں ہوا۔مختلف وقتوں کی باتیں ہو سکتی ہیں۔وہ آئے باتیں کیں اور جب وہ چلے گئے تو حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ ابو بکر آئے لیکن ان کے لیے آپ نے کوئی خاص خیال نہ کیا۔پھر عمر آئے تو ان کے لیے بھی آپ نے کوئی خاص خیال نہ کیا۔لیکن جب عثمان اندر آئے تو آپ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے ٹھیک کرنے لگے۔اس پر آپ نے فرمایا کیا میں اس شخص کا لحاظ نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں ! ایک دوسری جگہ اس روایت کو بیان کرتے ہوئے یہ بات لکھی ہے کہ جب حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ صرف حضرت عثمان کے لیے آپ نے یہ ایسا خاص اہتمام کیوں کیا؟ تو آپ صلی المیڈم نے فرمایا: کیا میں اس سے حیانہ کروں جس سے فرشتے بھی دیا کرتے ہیں ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللی کم کی جان ہے ! یقیناً فرشتے عثمان سے اسی طرح حیا کرتے ہیں جیسے وہ فرشتے اللہ اور اس کے رسول سے حیا کرتے ہیں۔اگر عثمان اندر آتے اور تو میرے قریب ہی ہوتی تو ان میں اتنی حیا ہے کہ وہ واپس جانے تک نہ ہی اپنا سر اوپر اٹھاتے یعنی نظر اوپر بھی نہ اٹھاتے اور نہ ہی کوئی بات کرتے۔739 حضرت عثمان کا یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔یہ واقعہ آپ نے اللہ