اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 361 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 361

اصحاب بدر جلد 3 361 حضرت عثمان بن عفان تو آپ نے یعنی حضرت عثمان نے فرمایا لڑائی سے بچو۔لڑائی سے بچو۔کیونکہ یہ بات تمہارے حق میں 687 بطور دلیل زیادہ مضبوط ہو گی۔87 محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ حضرت زید بن ثابت انصاری نے حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یہ انصار دروازے پر حاضر ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ پسند فرمائیں تو ہم دوسری مرتبہ اللہ کے انصار بننے کو تیار ہیں۔اس پر حضرت عثمان نے فرمایا۔نہیں، قتال ہر گز نہیں کرنا۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ یوم الدار کو میں نے حضرت عثمان کے پاس حاضر ہو کر عرض کیا۔اے امیر المومنین ! اب تو تلوار اٹھانا ہی مناسب ہے۔آپؐ نے فرمایا اے ابو ہریرہ ! کیا تم پسند کروگے کہ تم تمام لوگوں کو اور مجھے بھی قتل کر دو۔میں نے عرض کیا نہیں۔تو آپ نے فرمایا خدا کی قسم ! اگر تم نے ایک شخص کو بھی قتل کیا تو گویا سب لوگ قتل ہو گئے۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں پھر واپس آگیا۔اس لڑائی میں حصہ نہیں لیا۔پہلے یہ بیان ہو چکا ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ آج ہی لڑنے کا موقع ہے۔حضرت عبد اللہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے محاصرہ کے روز حضرت عثمان کی خدمت میں عرض کیا کہ اے امیر المومنین ! ان لوگوں سے جنگ کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ان سے جنگ کرنا جائز قرار دیا ہے۔آپؐ نے فرمایا اللہ کی قسم ! میں ان سے کبھی بھی جنگ نہیں کروں گا۔راوی کہتے ہیں کہ اس پر وہ لوگ آپ کے پاس گھر میں گھس آئے جبکہ آپ روزے سے تھے۔حضرت عثمان نے اپنے گھر کے دروازے پر حضرت عبد اللہ بن زبیر کو نگران مقرر فرمایا ہوا تھا۔آپ نے فرمایا تھا کہ جو میری اطاعت کرنا چاہتا ہے وہ عبد اللہ بن زبیر کی اطاعت کرے۔حضرت عبد اللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان کی خدمت میں عرض کیا کہ اے امیر المومنین ! یقینا آپ کے پاس گھر میں آپ کی حفاظت کے لیے ایک گروہ ہے جسے اللہ کی تائید و نصرت حاصل ہے اور وہ ان محاصرین کی نسبت تعداد میں کم ہیں۔پس آپ مجھے باغیوں سے قتال کی اجازت دیں۔تو آپ نے فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں یا فرمایا میں تمہیں اللہ کے نام پر نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی آدمی میری خاطر اپنا خون نہ بہائے یا میری خاطر کسی اور کا خون نہ بہائے۔شہادت سے قبل کی تفصیلات 688 حضرت عثمان کی شہادت سے قبل کے فتنہ اور آپ کے واقعہ شہادت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو بیان فرمایا ہے وہ اس طرح ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ چونکہ باغیوں کو بظاہر غلبہ حاصل ہو چکا تھا۔انہوں نے آخری حیلے کے طور پر پھر ایک شخص کو حضرت عثمان کی طرف بھیجا کہ وہ خلافت سے دستبردار ہو جائیں کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر خود دستبردار ہو جائیں گے تو مسلمانوں کو انہیں سزا دینے کا کوئی حق اور موقع نہ رہے گا یعنی باغیوں کو پھر سزا دینے کا موقع نہیں ملے گا۔حضرت