اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 360
ب بدر جلد 3 360 ا حضرت عثمان بن عفان کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے گھر سے محاصرین کو جھانک کر فرمایا کہ اے میری قوم! مجھے قتل نہ کرو کیونکہ میں حاکم وقت اور تمہارا مسلمان بھائی ہوں۔بخدا میں نے ہمیشہ مقدور بھر اصلاح کرنے کی کوشش کی ہے خواہ میرا موقف درست تھایا مجھ سے کوئی خطا ہوئی۔یاد رکھو اگر تم نے مجھے قتل کیا تو تم لوگ کبھی بھی اکٹھے نماز نہ پڑھ سکو گے اور نہ ہی کبھی اکٹھے جہاد کر سکو گے اور نہ ہی اموالِ غنیمت کی تم میں منصفانہ تقسیم ہو سکے گی۔راوی کہتے ہیں کہ جب محاصرہ کرنے والوں نے انکار کیا تو آپ نے فرمایا میں تمہیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم لوگوں نے امیر المومنین حضرت عمرؓ کی وفات کے وقت جبکہ تم سب متحد تھے اور سب دین اور حق پر قائم تھے وہ دعانہ کی تھی جو تم نے کی تھی یعنی خلافت کے بارے میں۔پھر کیا اب تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری دعائیں قبول نہیں کیں یا پھر یہ کہنا چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کو اب دین کی کوئی پروا نہیں رہی یا پھر یہ کہنا چاہتے ہو کہ میں نے اس چیز یعنی خلافت کو تلوار کے زور سے یا غاصبانہ قبضہ کے ذریعہ حاصل کیا ہے اور مسلمانوں کے مشورے سے اسے حاصل نہیں کیا یا پھر تمہارا خیال ہے کہ میری خلافت کے ابتدائی زمانے میں اللہ تعالیٰ میرے بارے میں وہ باتیں نہیں جانتا تھا جن کا اسے بعد میں پتہ چلا۔یہ تو نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے۔اس پر بھی جب محاصرین نے آپ کی بات نہ مانی تو آپ نے دعا کی کہ یا اللہ تو انہیں اچھی طرح گن لے اور ان سب کو چن چن کر مارنا اور ان سب میں سے کسی ایک کو بھی نہ چھوڑنا۔مجاہد کہتے ہیں کہ اس فتنہ میں جس جس نے بھی حصہ لیا اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا۔686 تم کبھی متحد نہ ہو سکو گے ابولیلیٰ کندی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان کو دیکھا جبکہ آپ محصور تھے۔آپ نے ایک روشن دان سے جھانک کر فرمایا اے لوگو! مجھے قتل نہ کرو اور اگر میرا قصور ہے تو مجھے تو بہ کا موقع دو۔اللہ کی قسم ! اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو پھر کبھی اکٹھے نماز نہیں پڑھ سکو گے اور کبھی بھی متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ نہ کر سکو گے اور ضرور تم آپس میں اختلاف کرو گے اور اس طرح تم الجھ کر رہ جاؤ گے۔راوی کہتے ہیں آپ نے انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر بتایا کہ ایسے۔پھر آپ نے فرمایا: وَيُقَومِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صُلِح وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْكُمْ بِبَعِید (مورد:90) اور اے میری قوم! میری دشمنی تمہیں ہر گز ایسی بات پر آمادہ نہ کرے کہ تمہیں بھی ویسی ہی مصیبت پہنچے جیسی نوح کی قوم کو اور ہود کی قوم کو اور صالح کی قوم کو پہنچی تھی اور لوط کی قوم بھی تم سے کچھ دور نہیں۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن سلام کی طرف پیغام بھیجا۔انہوں نے آکر حضرت عثمان سے عرض کیا کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے اس میں آپ کی کیا رائے ہے؟