اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 352
اصحاب بدر جلد 3 352 حضرت عثمان بن عفان ها الله سة تعالیٰ نے تم میں سے ایمان لانے والوں اور مناسب حال عمل کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنادے گا اور اتفاق کی قدر نہیں کرتے۔فرمایا کہ اور اتفاق کی قدر نہیں کرتے حالانکہ خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا (آل عمران : 104) کہ تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو۔پھر آپ نے فرمایا اور مجھ پر الزام لگانے والوں کی باتوں کو قبول کیا اور قرآن کریم کے اس حکم کی پرواہ نہ کی کہ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَا فَتَبَيَّنُوا (الحجرات: 7) یعنی اے مومنو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق اہم خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔پھر فرمایا کہ اور میری بیعت کا ادب نہیں کیا حالا نکہ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی علیکم کی نسبت فرماتا ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ :11) یعنی وہ لوگ جو تیری بیعت کرتے ہیں وہ صرف اللہ کی بیعت کرتے ہیں۔فرمایا اور میں رسول کریم صلی المیہ یکم کا نائب ہوں یعنی یہی حکم جو ہے یہی بات جو ہے مجھ پر بھی لاگو ہوتی ہے کہ میں رسول کریم صلی یکم کا نائب ہوں۔کوئی امت بغیر سر دار کے ترقی نہیں کر سکتی اور اگر کوئی امام نہ ہو تو جماعت کا تمام کام خراب و بر باد ہو جائے گا۔پھر آپ نے آگے تحریر فرمایا کہ یہ لوگ امت اسلامیہ کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں اور اس کے سوا ان کی کوئی غرض نہیں کیونکہ میں نے ان کی بات کو قبول کر لیا تھا اور والیوں کے بدلنے کا وعدہ کر لیا تھا مگر انہوں نے اس پر بھی شرارت نہ چھوڑی۔اب یہ تین باتوں میں سے ایک کا مطالبہ کرتے ہیں۔تین مطالبے انہوں نے ، باغیوں نے سامنے رکھے تھے۔اول یہ کہ جن لوگوں کو میرے عہد میں سزا ہے ان سب کا قصاص مجھ سے لیا جائے۔اگر یہ مجھے منظور نہ ہو تو پھر خلافت کو چھوڑ دوں۔اگر میں لوگوں کا قصاص نہیں دیتا جن کو سزادی ہے تو پھر میں خلافت کو چھوڑ دوں اور یہ لوگ میری جگہ کسی اور کو مقرر کر دیں۔یہ بھی نہ مانوں تو پھر یہ لوگ دھمکی دیتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے تمام ہم خیال لوگوں کو پیغام بھیجیں گے کہ میری اطاعت سے باہر ہو جائیں۔اگر یہ نہ مانوں تو پھر یہ دھمکی دیتے ہیں کہ میری اطاعت سے باہر نکل جاؤ۔پہلی بات کا تو یہ جواب ہے کہ مجھ سے پہلے خلفاء بھی کبھی فیصلوں میں غلطی کرتے تھے مگر ان کو کبھی سزا نہ دی گئی۔جو غلط فیصلے بھی ہوئے ان کے قصاص پہلے خلفاء نے نہیں دیے۔نہ ان کو کسی قسم کی کوئی سزا ملی اور اسی طرح میں نے کیا ہے اور اس قدر سزائیں مجھ پر جاری کرنے کا مطلب سوائے مجھے مارنے کے اور کیا ہو سکتا ہے ! یہ باتیں تم جو کر رہے ہو کہ قصاص دو یا سز ا لو تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ تم مجھے مارنا چاہتے ہو۔پھر فرمایا خلافت سے معزول ہونے کا جواب میری طرف سے یہ ہے کہ اگر یہ لوگ موچنوں سے نوچ نوچ کے میری بوٹیاں کر دیں تو یہ مجھے منظور ہے مگر خلافت سے میں جدا نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ نے قمیص پہنائی ہے کبھی نہیں ہو سکتا کہ چھوڑ دوں۔باقی رہی تیسری بات کہ پھر یہ لوگ اپنے آدمی چاروں طرف بھیجیں گے کہ کوئی میری بات نہ مانے۔سو میں خدا کی طرف سے ذمہ دار نہیں ہوں۔اگر یہ لوگ ایک امر خلاف شریعت کرنا چاہتے ہیں تو کریں۔پہلے بھی جب انہوں نے میری بیعت