اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 351
حاب بدر جلد 3 351 حضرت عثمان بن عفان رض قسم کی خیر کی امید رکھنی فضول ہے۔حضرت عائشہ نے اسی وقت حج کا ارادہ کر لیا اور سفر کی تیاری شروع کر دی۔جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ مدینہ سے جانے والی ہیں تو بعض نے آپ سے درخواست کی کہ اگر آپ یہیں ٹھہریں تو شاید فتنہ کے روکنے میں کوئی مدد ملے اور باغیوں پر کچھ اثر ہو مگر انہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ مجھ سے بھی وہی سلوک ہو جو ام حبیبہ سے ہوا ہے۔خدا کی قسم ! میں اپنی عزت کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی کیونکہ وہ رسول کریم صلی الی یکم کی عزت تھی۔اگر کسی قسم کا معاملہ مجھ سے کیا گیا تو میری حفاظت کا کیا سامان ہو گا ؟ خدا ہی جانتا ہے کہ یہ لوگ اپنی شرارتوں میں کہاں تک ترقی کریں گے اور ان کا کیا انجام ہو گا۔حضرت عائشہ صدیقہ نے چلتے چلتے ایک ایسی تدبیر کی ، جب حج پر جانے لگیں تو ایک ایسی تدبیر کی جو اگر کار گر ہو جاتی تو شاید فساد میں کچھ کمی ہو جاتی اور وہ تدبیر یہ تھی کہ اپنے بھائی محمد بن ابی بکر کو کہلا بھیجا جو اپنی لاعلمی کی وجہ سے یا چھوٹے ہونے کی وجہ سے، کمزور ایمان کی وجہ سے ان باغیوں کے ساتھ تھے کہ تم بھی میرے ساتھ حج کو چلو مگر انہوں نے انکار کر دیا۔اس پر حضرت عائشہ نے فرمایا کیا کروں بے بس ہوں۔اگر میری طاقت ہوتی تو ان لوگوں کو اپنے ارادوں میں کبھی کامیاب نہ ہونے دیتی۔حضرت عائشہ تو حج پر تشریف لے گئیں اور بعض صحابہ بھی جن سے ممکن ہو سکا اور مدینہ سے نکل سکے مدینہ سے تشریف لے گئے اور باقی لوگ سوائے چند اکابر صحابہ کے اپنے گھروں میں بیٹھ رہے اور آخر حضرت عثمان کو بھی یہ محسوس ہو گیا کہ یہ لوگ نرمی سے مان نہیں سکتے اور آپ نے ایک خط تمام والیانِ صوبہ جات کے نام روانہ کیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے بعد بلاکسی خواہش یا درخواست کے مجھے ان لوگوں میں شامل کیا گیا تھا جنہیں خلافت کے متعلق مشورہ کرنے کا کام سپر د کیا گیا تھا۔حضرت عثمان نے جو خط لکھا اس میں یہ فرمایا۔پھر فرمایا پھر بلامیری خواہش یا سوال کے مجھے خلافت کے لیے چنا گیا اور میں برابر وہ کام کرتا رہا جو مجھ سے پہلے خلفاء کرتے رہے اور میں نے اپنے پاس سے کوئی بدعت نہیں نکالی لیکن چند لوگوں کے دلوں میں بدی کا بیج بویا گیا اور شرارت جاگزیں ہوئی اور انہوں نے میرے خلاف منصوبے کرنے شروع کر دیے اور لوگوں کے سامنے کچھ ظاہر کیا اور دل میں کچھ اور رکھا اور مجھ پر وہ الزام لگانے شروع کیے جو مجھ سے پہلے خلفاء پر بھی لگتے تھے لیکن میں معلوم ہوتے ہوئے خاموش رہا اور یہ لوگ میرے رحم سے ناجائز فائدہ اٹھا کر شرارت میں اور بھی بڑھ گئے اور آخر کفار کی طرح مدینہ پر حملہ کر دیا۔پس آپ لوگ اگر کچھ کر سکیں تو مدد کا انتظام کریں۔اسی طرح ایک خط، جس کا خلاصہ مطلب اس طرح ہے ، جو حج پر آنے والوں کے نام لکھ کر کچھ دن کے بعد مکہ میں روانہ کیا۔آپ نے حاجیوں کے لیے لکھا کہ میں آپ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور اس کے انعامات یاد دلاتا ہوں۔اس وقت کچھ لوگ فتنہ پردازی کر رہے ہیں اور اسلام میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش میں مشغول ہیں مگر ان لوگوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ (النور: 56) یعنی اللہ