اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 340
محاب بدر جلد 3 340 حضرت عثمان بن عفان جب حضرت عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح نے فرنگیوں یعنی فرنچ اور بر بریوں کو افریقیہ اور اندلس میں شکست دے دی تو رومی بڑے سیخ پا ہوئے اور سب مل کر قسطنطين بن هِر قل کے پاس جمع ہوئے اور مسلمانوں کے مقابلے میں ایسی فوج نے کر نکلے جس کی آغاز اسلام سے اب تک کوئی مثال نہیں دیکھی گئی تھی۔یہ لشکر پانچ سو بحری جہازوں پر مشتمل تھا جو مسلمانوں سے مقابلے کے لیے نکلا۔امیر معاویہ نے حضرت عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کو بحری بیڑے کا امیر مقرر کیا۔جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو سخت مقابلہ ہوا۔بالآخر اللہ تعالیٰ کی نصرت سے مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور قسطنطین اور اس کا باقی ماندہ لشکر بھاگ کھڑا ہوا۔660 661 فتح آرمینیا 1 13 ہجری میں ہوئی۔واقدی کے قول کے مطابق 131 ہجری میں حبیب بن مسلمه فھدی کے ہاتھ پر آرمینیا فتح ہوا۔فتح خُراسان 131 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن عامر خُراسان کی طرف روانہ ہوئے اور انہوں نے ابر شهر (Abarshahr) ، طوس (Tous)، آبی ورد(Abivard) اور نسا (Nesa) کو فتح کر لیا یہاں تک کہ وہ سرخس (Sarakhs) پہنچ گئے۔اہل مزو ( Merv) نے بھی اسی سال صلح کر لی۔662 یہ مرو ترکمانستان میں ہے۔باقی علاقے ایران کے ہیں۔بلادِ روم کی طرف پیش قدمی 132 ہجری میں ہوئی۔132 ہجری میں امیر معاویہ نے بلادِ روم سے جنگ کی حتی کہ وہ قسطنطنیہ کے دروازے پر جا پہنچے۔3 663 مَرُورُود، طالقان، فَارِيَاب (Faryab)، جوزجان (Jowz) اور خارستان (Takhar) کی فتوحات 664 132 ہجری کی ہیں۔132 ہجری میں حضرت عبد الله بن عامر نے مَرُو رُود، طالقان موجودہ افغانستان میں بلخ اور مروروز کے درمیان علاقہ ہے ، فاریاب یہ بھی افغانستان کا علاقہ ہے۔جوزجان، یہ بھی افغانستان کا علاقہ ہے۔طخارستان، یہ بھی افغانستان کا علاقہ ہے، یہ سب علاقے فتح کیے۔4 ابو الْأَشْهَب سعدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اَحْنَفُ بن قَيْس کی اہل مَرْوُ رُود، طالقان فَارِيَاب اور جوزجان سے رات کی تاریکی تک جنگ جاری رہی حتی کہ اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست سے دوچار کیا۔665 احنف بن قیس نے اقرع بن حابس کو ایک گھڑ سوار لشکر کے ساتھ جو ز جان کی طرف روانہ کیا۔آفر کو اس باقی ماندہ لشکر کی طرف بھیجا گیا تھا جسے آخنَف شکست دے چکا تھا۔چنانچہ اقرع بن حابس نے ان سے سخت جنگ کی جس میں ان کے شہ سوار شہید بھی ہوئے تاہم اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح سے ہمکنار کیا۔16 666 بلخ کی فر 32 ہجری میں ہوئی۔احنف بن قیس مزوروڈ سے بلخ کی طرف گئے اور وہاں جاکر اہل