اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 319 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 319

صحاب بدر جلد 3 319 حضرت عثمان بن عفان میرے خلاف جنگ بند کر کے مجھے دوسرے لوگوں کے لیے آزاد چھوڑ دیں۔مکہ والوں سے میں کوئی تعارض نہیں کرتا۔کچھ ان سے تعلق نہیں رکھوں گا اور دوسرے لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچاؤں گا لیکن اگر انہوں نے میری اس تجویز کو بھی رڈ کر دیا اور بہر صورت جنگ کی آگ کو بھڑکائے رکھا تو مجھے بھی اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ پھر میں بھی اس مقابلہ سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹوں گا کہ یا تو میری جان اس رستہ میں قربان ہو جائے اور یا خدا مجھے فتح عطا کرے۔اگر میں ان کے مقابلہ میں آکر مٹ گیا تو قصہ ختم ہوا لیکن اگر خدا نے مجھے فتح عطا کی اور میرے لائے ہوئے دین کو غلبہ حاصل ہو گیا تو پھر مکہ والوں کو بھی ایمان لے آنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے۔بدیل بن ورقا پر آپ کی اس مخلصانہ اور دردمندانہ تقریر کا بہت اثر ہوا اور اس نے آپ سے عرض کیا کہ آپ مجھے کچھ مہلت دیں کہ میں مکہ جا کر آپ کا پیغام پہنچاؤں اور مصالحت کی کوشش کروں۔آپ نے اجازت دے الله دی اور بدیلا پنے قبیلہ کے چند آدمیوں کو اپنے ساتھ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہو گیا۔جب بدیل بن ور قامکہ میں پہنچا تو اس نے قریش کو جمع کر کے ان سے کہا کہ میں اس شخص یعنی محمد رسول اللہ صلی ایم کے پاس سے آرہا ہوں اور میرے سامنے اس نے ایک تجویز پیش کی ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کا ذکر کروں۔اس پر قریش کے جوشیلے اور غیر ذمہ دار لوگ کہنے لگے کہ ہم اس س کی کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں مگر اہل الرائے اور ثقہ لوگوں نے کہا۔ہاں جو تجویز بھی ہے وہ ہمیں بتاؤ۔چنانچہ بدنیل نے آنحضرت صلی علیہم کی بیان کردہ تجویز کا اعادہ کیا۔اس پر ایک شخص عُروہ بن مسعود نامی جو قبیلہ ثقیف کا ایک بہت با اثر رئیس تھا اور اس وقت مکہ میں موجود تھا کھڑا ہو گیا اور قدیم عربی انداز میں قریش سے کہنے لگا کہ اے لوگو ! کیا میں تمہارے باپ کی جگہ نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا ہاں۔پھر اس نے کہا کیا آپ لوگ میرے بیٹوں کی طرح نہیں ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں۔پھر غزو بنے کہا کیا تمہیں مجھے پر کسی قسم کی بے اعتمادی ہے؟ قریش نے کہا ہر گز نہیں۔اس پر اس نے کہا کہ پھر میری یہ رائے ہے کہ اس شخص محمد صلی علیم نے آپ کے سامنے ایک عمدہ بات پیش کی ہے۔آپ کو چاہیے کہ اس کی تجویز کو قبول کر لیں اور مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کی طرف سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جا کر مزید گفتگو کروں۔قریش نے کہا بے شک آپ جائیں اور گفتگو کریں۔جب وہ آنحضرت صلی علیکم کی مجلس میں پہنچا تو اس وقت وہاں ایک روح پرور نظارہ بھی اس نے دیکھا۔عروہ آنحضرت صلی ال نیم کی خدمت میں آیا اور آپ کے ساتھ گفتگو شروع کی۔آپ نے اس کے سامنے اپنی وہی تقریر دوہرائی جو اس سے قبل بدیل بن ورقا کے سامنے فرما چکے تھے۔عُزوه اصولاً آنحضرت صلی اسلام کی رائے کے ساتھ متفق تھا مگر قریش کی سفارت کا حق ادا کرنا اور ان کے حق میں زیادہ سے زیادہ شرائط محفوظ کرانا چاہتا تھا۔عُروہ آپ کے ساتھ گفتگو ختم کر کے قریش کی طرف لوٹا اور جاتے ہی قریش سے کہنے لگا۔اے لوگو ! میں نے دنیا میں بہت سفر کیے ہیں۔بادشاہوں کے دربار میں شامل ہوا ہوں اور قیصر وکسریٰ اور نجاشی