اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 10
حاب بدر جلد 3 10 رض حضرت عمر بن خطاب عمرؓ نے ان پر بھی ہاتھ اٹھا دیا جس سے ان کے چہرے سے (بہن کے چہرے سے ) خون بہنے لگا۔انہوں نے غصہ سے کہا اے عمر ! اگر سچائی تیرے دین کے علاوہ کسی اور دین میں ہے تو تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دے کہ محمد صلی علیکم اللہ کے رسول ہیں۔جب حضرت عمر عاجز آگئے تو کہنے لگے کہ مجھے وہ کتاب دو جو تمہارے پاس ہے تاکہ میں اسے پڑھوں اور حضرت عمر پڑھنا جانتے تھے۔آپ کی بہن نے کہا کہ تم ناپاک ہو اور اسے کوئی ناپاکی کی حالت میں نہیں چھو سکتا۔پس اٹھو اور غسل کرو یا وضو کر لو۔حضرت عمرؓ نے اٹھ کر وضو کیا۔پھر کتاب لے کر پڑھنے لگے وہ سورہ نکلا تھی۔جب اس آیت پہنچے کہ اِنَّنِي أَنَا اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُنِي وَ اَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى ( 15:1) یقیناً میں ہی اللہ ہوں میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔پس میری عبادت کر اور میرے ذکر کے لیے نماز کو قائم کر۔اس آیت کو پڑھنے کے بعد حضرت عمرؓ نے کہا کہ مجھے محمد صلی اللہ ﷺ کا پتہ بتاؤ۔یہ بات سن کر حضرت خباب بھی گھر سے نکلے اور کہنے لگے کہ اے عمر! تمہیں خوشخبری ہو۔میری خواہش ہے کہ رسول کریم صلی علیم کی جمعرات کی رات کی دعا تمہارے حق میں قبول ہو۔آپ نے فرمایا تھا کہ اللهُم أَعِزّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ أَوْ بِعَمْرِو بنِ هِشَامٍ کہ اے اللہ ! اسلام کو عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام کے ذریعہ سے عزت دے۔رسول اللہ صلی الل لم اس وقت اس گھر میں تھے جو کوہِ صفا کے دامن میں تھا۔حضرت عمررؓ چلے یہاں تک کہ اس گھر میں داخل ہوئے۔اس وقت گھر کے دروازے پر حضرت حمزہ ، حضرت طلحہ اور رسول اللہ صلی علیم کے دیگر صحابہ تھے۔حضرت حمزہ نے ان کو دیکھا کہ یہ لوگ عمر سے ڈر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اچھا تو یہ عمر نہیں۔اگر اللہ ان کو خیر سے لایا ہے تو یہ اسلام قبول کر کے رسول اللہ صلی علیکم کی پیروی کریں گے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور ارادہ ہو تو ان کو قتل کرنا ہم پر آسان ہے۔نبی کریم صلی علیکم گھر کے اندر تھے اور آپ پر وحی کا نزول ہو رہا تھا۔آپ بھی باہر نکلے اور عمرہ کے پاس آئے اور ان کو سینے سے پکڑا اور فرمایا اے عمر! کیا تم اس وقت تک باز نہیں آؤ گے جب تک کہ اللہ تم پر رسوائی اور دردناک عذاب نازل نہ کر دے جس طرح ولید بن مغیرہ کے لیے نازل کیا۔پھر آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔اے اللہ ! یہ عمر بن خطاب ہے۔اے اللہ ! دین کو عمر بن خطاب کے ذریعہ عزت دے۔اس کے بعد حضرت عمرؓ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اسلام قبول کر لیا اور کہنے لگے یار سول اللہ صلی اللی کم اسلام کی اشاعت کے لیے باہر نکلیں۔مغمر اور زہری سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی ال نیم کے دَارِ از قم میں آنے کے بعد اسلام قبول کیا اور دَارِ از قم میں مسلمان ہونے والے چالیسویں یا چالیس سے کچھ زیادہ مردو خواتین کے بعد اسلام قبول کرنے والے تھے۔دار از تم وہ مکان یا مر کز ہے جو ایک نو مسلم ارقم بن ار قم کا مکان تھا اور مکہ سے ذرا باہر تھا۔وہاں مسلمان جمع ہوتے تھے اور یہ دین سیکھنے اور عبادت وغیرہ کرنے کے لیے ایک مرکز تھا اور اسی شہرت کی وجہ سے اس کا نام ”دارالاسلام “ بھی مشہور ہوا اور یہ مکہ میں تین سال تک مرکز رہا۔وہیں خاموشی سے عبادت کیا کرتے تھے۔آنحضرت صلی الم کی مجلسیں لگا