اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 279
اصحاب بدر جلد 3 279 حضرت عمر بن خطاب پھر قربانی کرنے والوں کے قریبیوں کو بھی نوازنے کا ذکر ایک روایت میں ملتا ہے۔زید بن اسلم نے اپنے باپ سے روایت کی۔کہتے تھے کہ میں حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ بازار گیا۔حضرت عمر سے ایک جوان عورت پیچھے سے آملی اور کہنے لگی اے امیر المومنین! میرا خاوند فوت ہو گیا ہے اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ گیا ہے۔اللہ کی قسم ! بکری کے پائے بھی انہیں نصیب نہیں۔نہ ان کی کوئی کھیتی ہے اور نہ دودھیل جانور یعنی دودھ دینے والے جانور اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں ان کو قحط سالی نہ کھا جائے اور میں خفاف بن ایماء غفاری کی بیٹی ہوں اور میرے والد حدیبیہ میں نبی کریم صلی علیکم کے ساتھ موجود تھے۔حضرت عمرؓ یہ سن کر ٹھہر گئے اور آگے نہیں چلے۔حضرت عمر نے کہا واہ واہ ! بہت نزدیک کا تعلق ہے۔اس کے بعد حضرت عمرؓ نے واپس جا کر ایک مضبوط اونٹ لیا جو گھر میں بندھا تھا اور دو بوریاں اناج سے بھریں اور ان پر لا دیں اور ان کے درمیان سال بھر کے خرچ کے لیے مال اور کپڑے بھی رکھے۔پھر اس اونٹ کی نکیل اس عورت کے ہاتھ میں دے دی اور کہا اسے لے جاؤ۔یہ ختم نہیں ہو گا کہ اللہ تمہیں اور دے گا۔ایک شخص کہنے لگا کہ امیر المومنین! آپ نے اس کو بہت دے دیا ہے۔حضرت عمر نے کہا: تیری ماں تجھے کھوئے یعنی ناراضگی کا اظہار کیا کہ اللہ کی قسم! میں تو اس کے باپ اور اس کے بھائی کو اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ انہوں نے عرصے تک ایک قلعہ کا محاصرہ کیے رکھا جسے انہوں نے آخر فتح کر لیا۔پھر اس کے بعد صبح کے وقت ہم ان دونوں کے حصے اپنے درمیان تقسیم کرنے لگے یعنی وہ قلعہ ان دونوں نے فتح کیا تھا جس کی غنیمت گل مسلمانوں کو ملی۔گویا ہم نے ان کے حصہ میں سے بانٹا۔525 پس یہ وجہ ہے کہ یہ اس کی حق دار بنتی ہے کہ اسے کچھ دیا جائے۔بوڑھی اور معذور اور ضرورت مند عورتوں اور لوگوں کا کس طرح خیال رکھا کرتے تھے اس بارے میں روایت ہے۔حضرت طلحہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمررات کی تاریکی میں گھر سے نکلے تو حضرت طلحہ نے دیکھ لیا۔حضرت عمرؓ ایک گھر میں داخل ہوئے۔پھر دوسرے گھر میں داخل ہوئے۔جب صبح ہوئی تو حضرت طلحہ ان گھروں میں سے ایک گھر میں گئے ، وہاں ایک نابینا بڑھیا بیٹھی ہوئی تھی۔حضرت طلحہ نے اس سے پوچھا جو شخص تیرے پاس رات کو آتا ہے وہ کیا کرتا ہے ؟ بڑھیا نے جواب دیا: وہ کافی عرصہ سے میری خدمت کر رہا ہے اور میرے کام کاج کو ٹھیک کرتا ہے اور میری گندگی دور کرتا ہے۔یہ سن کر حضرت طلحہ نے ندامت سے اپنے آپ کو کہا اے طلحہ ! تیری ماں تجھے کھوئے۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ تو عمر کی لغزشوں کی کھوج میں ہے اور یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور ہے۔رعایا کی خدمت کے یہ عظیم معیار تھے جو حضرت عمرؓ نے قائم فرمائے۔526 حضرت عمر کی لوگوں، ضرورت مندوں، عورتوں، بچوں کی ضروریات پوری کرنے کی بہت سی روایات ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے آپ پوری کیا کرتے تھے اور کس طرح بے چین ہو جایا کرتے تھے۔آپ جب دیکھتے تھے کہ کسی کی ضرورت پوری نہیں ہوئی اور وہ آپ کی رعایا میں ہے