اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 277 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 277

محاب بدر جلد 3 277 حضرت عمر بن خطاب نے کہا پہلے اپنی بہن اور بہنوئی کو تو قتل کر لوجو مسلمان ہو گئے ہیں پھر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مارنا۔یہ سن کر وہ غصہ سے بھر گئے اور اپنی بہن کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔آگے جا کر دیکھا تو دروازہ بند تھا اور ایک شخص قرآن کریم سنارہا تھا اور ان کی بہن اور بہنوئی سن رہے تھے۔اس وقت تک پردہ کا حکم نازل نہ ہوا تھا۔“ اس لیے وہ صحابی اندر گھر میں بیٹھے تھے۔حضرت عمرؓ نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کھولو۔ان کی آواز سن کر اندر والوں کو ڈر پیدا ہوا کہ مار دیں گے اس لئے انہوں نے دروازہ نہ کھولا۔حضرت عمرؓ نے کہا اگر دروازہ نہ کھولو گے تو میں توڑ دوں گا۔اس پر انہوں نے قرآن کریم سنانے والے مسلمان کو چھپا دیا اور بہنوئی بھی چھپ گیا۔صرف بہن نے سامنے آکر دروازہ کھولا۔حضرت عمرؓ نے پوچھا: بتاؤ کیا کر رہے تھے اور کون شخص تھا جو کچھ پڑھ رہا تھا؟ انہوں نے ڈر کے مارے ٹالنا چاہا۔حضرت عمر نے کہا جو پڑھ رہے تھے مجھے سناؤ۔ان کی بہن نے کہا: آپ اس کی بے ادبی کریں گے اس لیے خواہ ہمیں جان سے مار دیں ہم نہیں سنائیں گے۔انہوں نے کہا: نہیں میں وعدہ کرتا ہوں کہ بے ادبی نہیں کروں گا۔“ یعنی قرآن کریم کی بے ادبی نہیں کروں گا۔اس پر انہوں نے قرآن کریم سنایا جسے سن کر حضرت عمر رو پڑے اور دوڑے دوڑے رسول کریم صلی ال نیم کے پاس گئے۔تلوار ہاتھ میں ہی تھی۔رسول کریم صلی ا یم نے انہیں دیکھ کر کہا۔عمر یہ بات کب تک رہے گی ؟ یہ سن کر وہ رو پڑے اور کہا میں نکلا تو آپ کے مارنے کے لیے تھا لیکن خود شکار ہو گیا ہوں۔“ م الله سة تو یہ خلاصہ ہے اس سارے لمبے واقعہ کا جو پہلے بیان ہو چکا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ” تو پہلے یہ حالت تھی جس سے انہوں نے ترقی کی۔پھر یہی صحابہ تھے جو پہلے شراب پیا کرتے تھے۔آپس میں لڑا کرتے تھے “ اور صحابہ کا بھی ذکر ہے۔اور کئی قسم کی کمزوریاں ان میں پائی جاتی تھیں لیکن جب انہوں نے آنحضرت صلی ا م کو قبول کیا اور دین کے لئے ہمت اور کوشش سے کام لیا تو نہ صرف خود ہی اعلیٰ درجے پر پہنچ گئے بلکہ دوسروں کو بھی اعلیٰ مقام پر پہنچانے کا باعث ہو گئے۔وہ پیدا ہی صحابی نہیں ہوئے تھے بلکہ اسی طرح کے تھے جس طرح کے اور تھے مگر انہوں نے عمل کیا اور ہمت دکھائی تو صحابی ہو گئے۔آج بھی اگر ہم ایسا ہی کریں تو صحابی بن سکتے ہیں۔518 حضرت عمر کی خشیت الہی کی کیا حالت تھی؟ اس بارے میں روایت ہے۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی بکری بھی ضائع ہو کر مرگئی تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے قیامت کے دن اس کے بارے میں سوال کرے گا۔ایک روایت میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی اونٹ بھی ضائع ہو کر مر گیا تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے اس کے بارے میں سوال کرے گا۔520 519 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ ایک دن میں عمر بن خطاب کے ساتھ باہر گیا یہاں تک