اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 276 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 276

276 حضرت عمر بن خطاب اصحاب بدر جلد 3 وزیر جبرئیل اور میکائیل ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابو بکر اور عمر ہیں۔3 حضرت حذیفہ سے مروی ہے کہ: 513 الله سة ہم نبی کریم صلی الیکم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ صلی الی الم نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ میں کب تک تمہارے درمیان رہوں گا۔پس تم لوگ ان دونوں کی پیروی کر وجو میرے بعد ہوں گے اور آپ صلی میں کم نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی طرف اشارہ کیا۔514 515 حضرت ابو بکرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللی کم نے ایک روز فرمایا: تم میں سے کس نے خواب دیکھی ہے۔ایک شخص نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا گویا کہ ایک میزان ہے۔آسمان سے اترا ہے اور آپ کو اور حضرت ابو بکر ہو تو لا گیا تو آپ حضرت ابو بکر سے بھاری ہوئے۔پھر حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو تو لا گیا تو حضرت ابو بکر بھاری ہوئے۔پھر حضرت عمررؓ اور حضرت عثمان کو تو لا گیا تو حضرت عمر بھاری ہوئے۔اس کے بعد میزان تر از و اٹھالی گئی۔راوی کہتے ہیں کہ ہم نے آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے۔ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللی تم نے خواب کے سننے کے بعد فرمایا: یہ نبوت کی خلافت ہے۔اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا بادشاہت عطا فرمائے گا۔5 عبد خير بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی منبر پر کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ اے لوگو! کیا میں تمہیں نبی کریم صلی علی میم کے بعد اس امت کے سب سے بہترین انسان کے بارے میں نہ بتاؤں۔لوگوں نے کہا کیوں نہیں۔حضرت علی نے کہا ابو بکر نہیں۔پھر آپ تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر کہنے لگے اے لوگو ! کیا میں تمہیں حضرت ابو بکر کے بعد اس امت کے سب سے بہترین انسان کے بارے میں بتاؤں وہ عمر نہیں۔516 ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی سے سنا کہ اس امت میں نبی علی میم کے بعد سب سے بہترین ابو بکر نہیں۔پھر عمر نہیں۔517 صحابہ کی پہلی حالت اور اسلام قبول کرنے کے بعد جو انقلاب ان کی حالتوں میں آیا اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے ایک مثال حضرت عمر کی بھی دی ہے۔یہ مثال گو میں پہلے ذکر کر چکا ہوں لیکن یہاں اس حوالے سے بیان کر دیتا ہوں۔آپؐ نے فرمایا۔”دیکھو صحابی کس طرح رسول کریم صلی الم کے صحابہ بنے اور کس طرح انہوں نے بڑے بڑے درجے حاصل کیے۔اسی طرح کہ کوشش کی ورنہ یہ وہی لوگ تھے جو رسول کریم صلی ال کر کے جانی دشمن تھے اور آپ کو گالیاں دیتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو آنحضرت صلی علیم کے بعد دوسرے خلیفہ ہوئے ہیں ابتداء میں آنحضرت صل ال روم کے ایسے سخت دشمن تھے کہ آپ کو قتل کرنے کے لیے گھر سے نکلے تھے۔راستہ میں ایک ملا جس نے پوچھا کہاں جارہے ہو ؟ انہوں نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کرنے جاتا ہوں۔اس شخص