اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 262
حاب بدر جلد 3 262 حضرت عمر بن خطاب فرمایا کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا تھا کہ تیرے ہاتھوں میں مجھے کسری کے کڑے نظر آتے ہیں۔اسی طرح ایک موقعہ پر کسری کا تاج اور اس کا ریشمی لباس جب غنیمت کے اموال میں آیا تو حضرت عمرؓ نے ایک شخص کو اس لباس اور اس تاج کے پہنے کا حکم دیا اور جب اس نے پہن لیا تو آپ رو پڑے اور فرمایا: چند دن ہوئے کسر می اس لباس کو پہن کر اور اس تاج کو سر پر رکھ کر ملک ایران پر جابرانہ حکومت کر تا تھا اور آج وہ جنگلوں میں بھا گا پھر رہا ہے۔دنیا کا یہ حال ہوتا ہے۔اور یہ حضرت عمر یا فعل ظاہر بین انسان کو شاید درست معلوم نہ ہو کیونکہ ریشم اور سونا پہننا مردوں کے لئے جائز نہیں لیکن ایک نیک بات سمجھانے اور نصیحت کرنے کے لئے حضرت عمر نے ایک شخص کو چند منٹ کے لئے سونا اور ریشم پہنا دیا۔غرض اصل شئے تقوی اللہ ہے احکام سب تقویٰ اللہ کے پیدا کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔اگر تقویٰ اللہ کے حصول کے لئے کوئی شئے جو بظاہر عبادت معلوم ہوتی ہے چھوڑنی پڑے تو وہی کار ثواب ہو گا۔468 حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ ہم نے فرمایا: خواب میں مجھے دکھایا گیا کہ میں ایک کنویں پر کھڑ اڈول سے جو چرخی پر رکھا ہوا تھا پانی کھینچ کر نکال رہا ہوں۔اتنے میں ابو بکر آئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچ کر اس طور سے نکالے کہ ان کو کھنچنے میں کمزوری تھی اور اللہ ان کی کمزوری پر پردہ پوشی کرے گا اور ان سے در گزر فرمائے گا۔پھر عمر بن خطاب آئے اور وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیا تو میں نے کوئی شہ زور نہیں دیکھا جو ایسا حیرت انگیز کام کرتا ہو جیسا عمرؓ نے کیا۔اتنا پانی نکالا کہ لوگ سیر ہو گئے اور اپنے اپنے ٹھکانوں پر جابیٹھے۔469 470 اپنا بچا ہوا دودھ حضرت عمرؓ کو دیا حضرت ابن عمرؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی الیوم سے سنا۔آپ فرماتے تھے۔ایک بار میں سویا ہوا تھا کہ اس اثنا میں میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا اور میں نے اتنا پیا کہ میں نے اس کی طراوت کو اپنے ناخنوں سے پھوٹتے ہوئے دیکھا۔پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ حضرت عمر بن خطاب کو دیا۔صحابہ نے پوچھا یار سول اللہ ! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی۔آنحضرت صلی الم نے فرمایا : علم حضرت زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ فضل العلم سے اس جگہ مراد علم کی فضیلت نہیں بلکہ علم کا بچا ہوا حصہ۔فضیلت علم کے متعلق الگ باب باندھا گیا ہے۔آنحضرت صلی علیکم کی رؤیا اور اس کی تعبیر سے نیز ان واقعات سے جن سے کہ اس رؤیا کی تصدیق ہوئی یہ استدلال کرنا مقصود ہے کہ دنیاوی فتوحات اور عظمت جو مسلمانوں کو حضرت عمرؓ کے ذریعہ سے نصیب ہوئی وہ علم نبوی کا ایک بچا ہوا حصہ تھا جو حضرت عمرؓ کو آنحضرت صلی ای کم سے ملا تھا۔قرآن مجید میں آنحضرت صلی علیکم کو بوجہ آپ کی اس جامع حیثیت کے مجمع البحرین (دنیوی اور اخروی بہبودی کے علوم کا جامع ) کہا گیا ہے۔امام بخاری نے سیاست کو العلم میں شمار کر کے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ