اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 254 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 254

حاب بدر جلد 3 254 حضرت عمر بن خطاب مواقع پر میں نے اپنے رب سے موافقت کی۔مقام ابراہیم کے بارے میں اور پر دے کے بارے میں اور بدر کے قیدیوں کے بارے میں۔443 لیکن بدر کے قیدیوں کے بارے میں روایت درست نہیں ہے۔اس پر حضرت مصلح موعودؓ نے بھی بڑی بحث کی ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی بعض ثبوتوں سے لکھا ہے۔پرانے علماء اور مفسرین نے بھی لکھا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ بدر کے قیدیوں کو سزا دینے والی روایت صحیح نہیں ہے اور اس کی جو تفصیل ہے میں پیچھے ایک خطبہ میں بیان کر چکا ہوں۔صحیح مسلم میں حضرت عمر کا منافقین کا جنازہ نہ پڑھنے کے بارے میں وحی قرآنی سے موافقت کا ذکر ملتا ہے۔حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ جب عبد اللہ بن ابی بن سلول مرا تو اس کا بیٹا عبد اللہ بن عبد اللہ رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور سے درخواست کی کہ آپ اس کو اپنی قمیص عطا فرمائیں تا کہ وہ اس میں اپنے باپ کو کفنائے۔چنانچہ آپ صلی الی یکم نے اسے قمیص عطا فرمائی۔پھر اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں تو رسول اللہ صلی علیم کیے گئے تاکہ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔اس پر حضرت عمر کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلی علیکم کے کپڑے کو پکڑ لیا اور عرض کیا یارسول اللہ ! کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھنے لگے ہیں حالانکہ اللہ نے آپ کو اس پر نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے اور فرمایا ہے: اِسْتَغْفِرُ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرُ لَهُم کہ تو ان کے لیے استغفار کریانہ کر۔اگر تو ان کے لیے ستر مرتبہ بھی استغفار کرے گا تو فرمایا کہ میں ستر سے زیادہ دفعہ استغفار کر لوں گا۔حضرت عمرؓ نے کہا وہ منافق ہے مگر رسول اللہ صلی علیہ یکم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی تب اللہ عز و جل نے یہ آیت اتاری وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُم مَّاتَ اَبَدًا اور تُو ان میں سے یعنی منافقین میں سے کسی مرنے والے کی کبھی جنازے کی نماز نہ پڑھ اور کبھی ان کی قبر پر دعا کے لیے کھڑا نہ ہو۔444 شراب کی حرمت کے بارے میں حضرت عمر کی وحی قرآنی سے موافقت کا ذکر سنن ترمذی میں ملتا ہے۔حضرت عمر بن خطاب نے دعا کی کہ اے اللہ ! شراب کے بارے میں ہمارے لیے اطمینان بخش حکم بیان فرما تو سورہ بقرہ کی آیت يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ نازل ہوئی۔وہ تجھ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔تو کہہ دے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ بھی ہے اور لوگوں کے لیے فوائد بھی اور دونوں کا گناہ کا پہلو ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔جب یہ آیت نازل ہو چکی تو حضرت عمرؓ کو یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی۔یہ آیت سن کر عمرؓ نے پھر کہا اے اللہ ! ہمارے لیے شراب کا واضح حکم بیان فرما تو سورہ نساء کی آیت لَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ وَ انتُم شکری نازل ہوئی کہ اے وہ لو گو ! جو ایمان لائے ہو تم نماز کے قریب نہ جاؤ جب تم پر مدہوشی کی کیفیت ہو یہاں تک کہ اس قابل ہو جاؤ کہ تمہیں علم ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔عمر پھر آئے اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی۔انہوں نے پھر کہا اے اللہ ! ہمارے لیے شراب کا حکم صاف صاف بیان فرما دے تو سورۂ مائدہ کی آیت إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَنُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ