اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 240
اصحاب بدر جلد 3 240 حضرت عمر بن خطاب میں اللہ کو اس حال میں ملوں کہ میرے ذمہ کوئی قرض نہ ہو۔پس تم اس قرض کو پورا کرنے کے لیے اس مکان کو بیچ دینا جس میں رہتے تھے۔پس اگر کچھ مال کم رہ جائے تو بنو عدی سے مانگنا۔اگر پھر بھی بچ جائے تو قریش کے بعد کسی کے پاس نہ جانا۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ان کی، حضرت عمر کی وفات کے بعد حضرت معاویہ کے پاس گئے اور آپ نے، حضرت معاویہ نے حضرت عمر کا گھر خرید لیا جس کو دارالقضاء کہا جاتا ہے۔آپ نے وہ مکان بیچ دیا اور حضرت عمر کا قرض ادا کر دیا۔اس لیے اس گھر کو دَارُ قَضَاءِ دَيْنِ عُمر کہا جانے لگا یعنی وہ گھر جس کے ذریعہ حضرت عمرؓ کے قرض کو ادا کیا گیا تھا۔396 حضرت عبید اللہ بن عمر جب حضرت عثمان سے الجھے ہیں تو اس وقت تک ابھی حضرت عثمان خلافت کے مسند پر فائز نہیں ہوئے تھے۔پہلے بھی بیان ہو چکا ہے کہ عبید اللہ کا ارادہ تھا کہ وہ آج مدینہ کے کسی قیدی کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔397 مہاجرین اولین ان کے خلاف اکٹھے ہو گئے اور انہیں روکا اور انہیں دھمکی دی تو وہ مہاجرین کو بھی خاطر میں نہ لائے اور انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں انہیں یعنی جتنے بھی قیدی ہیں، غلام ہیں، ضرور قتل کروں گا۔حتی کے عمرو بن عاص ان کے ساتھ مسلسل لگے رہے یہاں تک کہ انہوں نے تلوار عمر و بن عاص کے حوالے کر دی۔پھر سعد بن ابی وقاص سمجھانے کے لیے ان کے پاس آئے تو ان سے بھی عبید اللہ بن عمرؓ نے لڑائی کی۔جیسا کہ بیان ہوا تھا کہ حضرت عثمان سے لڑائی ہوئی اور لوگوں نے بیچ بچاؤ کر وایا۔اس ضمن میں یہ ذکر ملتا ہے کہ جب یہ واقعہ ہوا تو ابھی حضرت عثمان کی بیعت نہیں کی گئی تھی۔یعنی حضرت عثمان اس وقت تک خلیفہ منتخب نہیں ہوئے تھے جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔اسی طرح یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ حضرت عبید اللہ کو اس کے بعد قید بھی کر لیا گیا تھا۔حضرت عثمان کی بیعت کے بعد جب خلافت پر متمکن ہوئے تو حضرت عبید اللہ کو حضرت عثمان کے سامنے پیش کیا گیا تو امیر المومنین نے مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ مجھے اس کے بارے میں رائے دو جس نے اسلام میں رخنہ ڈالا ہے۔حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا کہ اسے چھوڑ نا انصاف سے بعید ہے، میری رائے میں اس کو یعنی تعبید اللہ بن عمر کو قتل کر دینا چاہیے لیکن بعض مہاجرین نے اس رائے کو نا قابل برداشت، شدت اور سختی پر محمول کیا اور کہا کہ کل عمرہ قتل کیے گئے اور آج ان کا بیٹا قتل کر دیا جائے۔اس اعتراض نے حاضرین کو مغموم کر دیا اور حضرت علی بھی خاموش رہے لیکن بہر حال پھر حضرت عثمان نے چاہا کہ حاضرین میں سے کوئی شخص اس نازک صورت حال سے عہدہ برا ہونے کی کوئی راہ نکالے، مشورہ دے۔حضرت عمرو بن عاص اس مجلس میں موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ کو اس سے معاف رکھا ہے۔یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ مسلمانوں کے امیر نہیں تھے اور چونکہ یہ واقعہ آپ کے عہد خلافت میں نہیں ہوا اس لیے آپ پر اس کی کوئی ذمہ داری شخص