اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 239 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 239

تاب بدر جلد 3 239 حضرت عمر بن خطاب 394 مصر کی فتح کے لئے گئے اور انہوں نے علاقہ کو فتح کر لیا تو اس کے بعد جب وہ نماز پڑھاتے تو پہرہ کا انتظام نہ کرتے۔دشمنوں نے جب دیکھا کہ مسلمان اس حالت میں بالکل غافل ہوتے ہیں تو انہوں نے ایک دن مقرر کر کے چند سو مسلح آدمی عین اس وقت بھیجے۔جب مسلمان سجدہ میں تھے پہنچتے ہی انہوں نے تلواروں سے مسلمانوں کے سر کاٹنے شروع کر دیئے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ سینکڑوں صحابہ اس دن مارے گئے یازخمی ہوئے۔ایک کے بعد دوسراسر زمین پر گرتا اور دوسرے کے بعد تیسر ا اور ساتھی سمجھ ہی نہ سکتے کہ یہ کیا ہو رہا ہے حتی کہ شدید نقصان لشکر کو پہنچ گیا۔حضرت عمرؓ کو جب معلوم ہو ا تو آپ نے انہیں بہت ڈانٹا اور فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ حفاظت کا انتظام رکھنا چاہئے مگر انہیں“ یعنی حضرت عمرؓ کو کیا معلوم تھا کہ مدینہ میں بھی ایسا ہی ان کے ساتھ ہونے والا ہے۔اس واقعہ کے بعد صحابہ نے یہ انتظام کیا کہ جب بھی نماز پڑھتے ہمیشہ حفاظت کے لئے پہرے رکھتے۔393 حضرت عمر کے قرض کے بارے میں پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔آپ نے پوچھا تھا اور پھر اپنے بیٹے کو فرمایا تھا۔اس بارے میں مزید یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو کہا کہ عبد اللہ بن عمر د یکھو مجھ پر کتنا قرض ہے ؟ انہوں نے حساب کیا تو چھیاسی ہزار درہم نکلے۔آپؐ نے فرمایا: اے عبد اللہ ! اگر آلِ عمر کا مال اس کے لیے کافی ہو تو ان کے مال سے میرا یہ قرض ادا کر دینا۔اگر ان کا مال کافی نہ ہو تو بنو عدی بن کعب سے مانگنا۔اگر وہ بھی کافی نہ ہو تو قریش سے مانگنا اور ان کے علاوہ کسی اور سے نہ کہنا۔4 صحابہ کرام جانتے تھے کہ ہمارا یہ سادہ زندگی بسر کرنے والا امام اتنی بڑی رقم اپنے اوپر خرچ کرنے والا نہیں ہے۔انہیں معلوم تھا کہ جو اتنا قرض چڑھایا تھا، یہ رقم بھی انہوں نے ضرورت مندوں اور غریبوں پر ہی خرچ کی تھی۔اس لیے عبد الرحمن بن عوف نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ آپ بیت المال سے قرض لے کر اپنا یہ قرض کیوں نہیں ادا کر دیتے ؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا معاذ اللہ ! کیا تم چاہتے ہو کہ تم اور تمہارے ساتھی میرے بعد یہ کہیں کہ ہم نے تو اپنا حصہ عمرؓ کے لیے چھوڑ دیا۔تم اب تو مجھے تسلی دے دو مگر میرے پیچھے ایسی مصیبت پڑ جائے کہ اس سے نکلے بغیر میرے لیے نجات کی کوئی راہ نہ ہو۔پھر حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبد اللہ بن عمرؓ سے فرمایا۔میرے قرض کی ذمہ داری قبول کرو۔چنانچہ انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کر لی۔حضرت عمرؓ ا بھی دفن نہیں کیے گئے تھے کہ ان کے بیٹے نے ارکانِ شوری اور چند نصاریٰ کو اپنی اس ضمانت پر گواہ بنایا جو قرض کی ذمہ داری لی تھی اور حضرت عمر کی تدفین کے بعد ابھی جمعہ نہیں گزرا تھا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر قرض کی رقم لے کر حضرت عثمان کی خدمت میں پہنچے اور چند گواہوں کے سامنے اس بار سے سبکدوش ہو گئے۔قرض کی ادائیگی کے متعلق ایک اور روایت کتاب ”وفاء الوفاء میں ملتی ہے۔حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ کے ذمہ قرض تھا۔آپ نے حضرت عبد اللہ اور حضرت حفصہ کو بلایا اور کہا میرے ذمہ اللہ کے مال میں سے کچھ قرض ہے اور میں چاہتا ہوں کہ 395