اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 238 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 238

محاب بدر جلد 3 238 حضرت عمر بن خطاب حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ ”میں نے اس دردناک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے اس کا اسلام پر آج تک اثر ہے اور وہ اس طرح کہ گو موت ہر وقت لگی ہوتی ہے مگر ایسے وقت میں موت کے آنے کا خیال نہیں کیا جاتا جب قویٰ مضبوط ہوں لیکن جب قویٰ کمزور ہوں اور صحت انحطاط کی طرف ہو تو لوگوں کے ذہن خود بخود آئندہ انتظام کے متعلق سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔وہ ایک دوسرے سے اس بارے میں باتیں نہیں کرتے مگر خود بخود رو ایسی پیدا ہو جاتی ہے جو آئندہ انتظام کے متعلق غور کرنے کی تحریک کرتی ہے۔اس وجہ سے جب امام فوت ہو تو لوگ چوکس ہوتے ہیں۔چونکہ حضرت عمرؓ کے قویٰ مضبوط تھے گو ان کی عمر تریسٹھ سال کی ہو چکی تھی لیکن صحابہ کے ذہن میں یہ نہ تھا کہ حضرت عمران سے جلدی جدا ہو جائیں گے اس وجہ سے وہ آئندہ انتظام کے متعلق بالکل بے خبر تھے کہ یکدم حضرت عمر کی وفات کی مصیبت آپڑی۔اس وقت جماعت کسی دوسرے امام کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھی۔اس عدم تیاری کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت عثمانؓ سے لوگوں کو وہ لگاؤ نہ پیدا ہوا جو ہونا چاہئے تھا۔اس وجہ سے اسلام کی حالت بہت نازک ہو گئی اور حضرت علی کے وقت اور زیادہ نازک ہو گئی۔3924 جو فساد بعد میں ہوئے یہ بھی ان کی ایک وجہ بیان کی ہے۔آپ کے نزدیک یہ وجہ ہو سکتی ہے۔فتنہ کے وقت چند آدمی نماز کے موقع پر حفاظت کے لیے کھڑے ہونے ضروری ہیں۔یہ بھی حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا ہے۔اور اس ضمن میں حضرت عمرؓ کی شہادت کا واقعہ بیان کیا ہے۔فرماتے ہیں کہ ” قرآن مجید کا صراحتاً حکم ہے کہ حفاظت کے لئے مسلمانوں میں سے آدھے کھڑے رہا کریں اور گو یہ جنگ کے وقت کی بات ہے جب ایک جماعت کی حفاظت کے لئے ضرورت ہوتی ہے لیکن اس سے استدلال کیا جاسکتا ہے کہ چھوٹے فتنے کے انسداد کے لئے اگر چند آدمی نماز کے وقت کھڑے کر دیئے جائیں تو یہ قابل اعتراض امر نہیں بلکہ ضروری ہو گا کہ یہ کس طرح کیا جائے؟ فرماتے ہیں کہ ”اگر جنگ کے وقت ہزار میں سے پانچ سو حفاظت کے لئے کھڑے کئے جاسکتے ہیں تو کیا معمولی خطرے کے وقت ہزار میں سے پانچ دس آدمی حفاظت کے لئے کھڑے نہیں کئے جاسکتے؟ یہ کہنا کہ خطرہ غیر یقینی ہے بیہودہ بات ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہوا۔آپ نماز پڑھ رہے تھے۔مسلمان بھی نماز میں مشغول تھے کہ ایک بدمعاش شخص نے سمجھا یہ وقت حملہ کرنے کے لئے موزوں ہے وہ آگے بڑھا اور اس نے خنجر سے وار کر دیا۔اس واقعہ کے بعد بھی اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ نماز کے وقت پہرہ دینا اس کے اصول یا وقار کے خلاف ہے۔“ یعنی نماز کے اصول یا وقار کے خلاف ہے تو سوائے اپنی حماقت کے مظاہرہ کرنے کے اور وہ کچھ نہیں کرتا۔اس کی مثال اس بیوقوف کی سی ہے جو لڑائی میں شامل ہوا اور ایک تیر اسے آلگا جس سے خون بہنے لگا۔وہ میدان سے بھاگا اور خون پونچھتا ہوا یہ کہتا چلا گیا کہ یا اللہ ! یہ خواب ہی ہو “ یہ سچی بات نہ ہو کہ تیر مجھے لگ گیا ہے۔تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ ایک موقع پر صحابہ نے اپنی حفاظت کا انتظام نہ کیا تو انہیں سخت تکلیف اٹھانی پڑی۔چنانچہ حضرت عمر و بن العاص جب