اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 235 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 235

اصحاب بدر جلد 3 235 حضرت عمر بن خطاب بناؤں تو رسول اللہ صلی الم نے خلیفہ تو نہیں بنایا تھا اور اگر میں خلیفہ بناؤں تو حضرت ابو بکر نے خلیفہ بنایا تھا۔انہوں نے یعنی حضرت عمر کے بیٹے ابن عمر نے کہا: پس اللہ کی قسم ! جب انہوں نے یعنی حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی علی کم اور حضرت ابو بکر کا ذکر کیا تو میں سمجھ گیا کہ آپ کسی کو رسول اللہ صلی ال نیم کے برابر نہیں کریں گے اور یہ کہ آپ کسی کو جانشین نہیں بنائیں گے۔الله 388 حضرت مسور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر کو زخمی کیا گیا تو درد سے بے قرار ہونے لگے۔حضرت ابن عباس نے ان سے کہا جیسا کہ ان کو تسلی دینے لگے ہیں۔امیر المومنین ! اگر ایسا ہے تو آپ رسول اللہ صلی علیکم کی صحبت میں رہ چکے ہیں اور آپ نے نہایت عمدگی سے آپ کا ساتھ دیا۔پھر آپ ان سے ایسی حالت میں جدا ہوئے کہ آنحضرت صلی علیہ کام آپ سے خوش تھے۔پھر آپ حضرت ابو بکر کے ساتھ رہے اور نہایت عمدگی سے ان کا ساتھ دیا۔پھر آپ ان سے ایسی حالت میں جدا ہوئے کہ وہ آپ سے خوش تھے۔389 پھر آپ ان کے صحابہ کے ساتھ رہے اور آپ نے نہایت عمدگی سے ان کا ساتھ دیا اور اگر آپ ان سے جدا ہو گئے تو یقیناً آپ ایسی حالت میں ان سے جدا ہوں گے کہ وہ آپ سے خوش ہوں۔حضرت عمر نے کہا یہ جو تم نے رسول اللہ صلی علیم کی صحبت اور آپ کی خوشنودی کا ذکر کیا ہے تو یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا۔اور جو تم نے حضرت ابو بکر کی صحبت اور ان کی خوشنودی کا ذکر کیا ہے تو یہ بھی محض اللہ جلّ ذِکرہ کا احسان ہے جو اُس نے مجھ پر کیا۔اور یہ جو تم میری فکر دیکھ رہے ہو تو یہ تمہاری خاطر اور تمہارے ساتھیوں کی خاطر ہے۔میں اپنی فکر نہیں کر رہا۔تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی فکر کر رہا ہوں۔اللہ کی قسم! اگر میرے پاس زمین بھر سونا بھی ہو تو میں ضرور اللہ عز وجل کے عذاب سے فدیہ دے کر چھڑا لیتا پیشتر اس کے کہ میں وہ عذاب دیکھوں۔حضرت مصلح موعودؓ آیت وَلَيُبَدِّلَهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں پر کوئی ایسی مصیبت نہیں آئی جس سے انہوں نے خوف کھایا ہو اور اگر آئی تو اللہ تعالیٰ نے اسے امن سے بدل دیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت عمرؓ شہید ہو گئے مگر جب واقعات کو دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کو اس شہادت سے کوئی خوف نہیں تھا بلکہ وہ متواتر دعائیں کیا کرتے تھے کہ یا اللہ ! مجھے شہادت نصیب کر اور شہید بھی مجھے مدینہ میں کر۔پس وہ شخص جس نے اپنی ساری عمر یہ دعائیں کرتے ہوئے گزار دی ہو کہ یا اللہ ! مجھے مدینہ میں شہادت دے۔وہ اگر شہید ہو جائے تو ہم یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اس پر ایک خوفناک وقت آیا مگر وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے امن سے نہ بدلا گیا۔بیشک اگر حضرت عمرؓ شہادت سے ڈرتے اور پھر وہ شہید ہو جاتے تو کہا جا سکتا تھا کہ ان کے خوف کو خدا تعالیٰ نے امن سے نہ بدلا مگر وہ تو دعائیں کرتے رہتے تھے کہ یا اللہ ! مجھے مدینہ میں شہادت دے۔پس ان کی شہادت سے یہ کیونکر ثابت ہو گیا کہ وہ شہادت سے ڈرتے بھی تھے اور جب وہ شہادت سے نہیں ڈرتے خلفاء پر ک