اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 233
اصحاب بدر جلد 3 233 حضرت عمر بن خطاب اور دونوں گواہوں کے بیان کے مطابق یہ سب کچھ اس رات کا قصہ ہے جس صبح حضرت عمرہ پر حملہ کیا گیا۔کیا اس کے بعد بھی کوئی شخص اس میں شبہ کر سکتا ہے کہ امیر المومنین اس سازش کا شکار ہوئے جس کے اہم کردار تو یہی تین آدمی تھے لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دوسرے ایرانی یا ان قوموں کے افراد بھی اس میں شامل ہوں جن پر مسلمانوں نے غلبہ پایا تھا۔حضرت عبید اللہ بن عمرؓ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کی بات اور عبد الرحمن بن ابی بکر کی شہادت سنی تو ساری کائنات ان کی نگاہوں میں خون ہی خون ہو گئی۔ان کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ مدینہ کے تمام پر دیسی اس سازش میں شریک ہیں اور ان سب کے ہاتھوں سے جرم کا خون ٹپک رہا ہے۔انہوں نے فوراً تلوار سنبھالی اور سب سے پہلے هرمزان اور جُفّینہ کا کام تمام کیا۔روایت ہے کہ انہوں نے ھرمزان کو آواز دی اور جب وہ باہر نکل کر آیا تو اسے کہا کہ ذرا ساتھ آؤ اور میرے گھوڑے کو دیکھ لو اور خود پیچھے ہٹ گئے۔جب وہ ان کے سامنے سے گزرا تو تلوار کا ایک ہاتھ اس پر مارا۔ایرانی نے جب تلوار کی سوزش محسوس کی تو کہا لا الہ الا اللہ اور وہیں ڈھیر ہو گیا۔روایت ہے کہ حضرت عبید اللہ بن عمرؓ، یہ حضرت عمر کے بیٹے تھے نے کہا کہ پھر میں نے جھینہ کو بلایا وہ حیرہ کا ایک عیسائی تھا اور سعد بن ابی وقاص کا دودھ شریک بھائی تھا۔اس رشتے سے سعد اسے مدینہ لے آئے تھے جہاں وہ لوگوں کو پڑھایا لکھایا کرتا تھا۔جب میں نے اسے تلوار ماری تو اس نے اپنی دونوں آنکھوں کے در میان صلیب کا نشان بنایا۔حضرت عبید اللہ کے دوسرے بھائی بھی اپنے والد کی شہادت پر ان سے کچھ کم غضبناک نہیں تھے اور سب سے زیادہ غصہ ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو تھا۔بہر حال یہ جو انہوں نے کیا ہے قانونی طور پر اس کی کوئی اجازت نہیں تھی۔کسی شخص کو اختیار نہیں کہ وہ خود انتقام لینے کے لیے کھڑا ہو جائے یا اپنا حق خود وصول کرے جبکہ معاملات کا فیصلہ رسول اللہ صلی علی کرم اور آپ صلی علیکم کے بعد آپ صلی ایم کے خلفاء رضوان اللہ علیہم کے لیے مخصوص تھا۔وہ لوگوں کے در میان منصفانہ فیصلے اور مجرم کے خلاف قصاص کا حکم صادر کرتے تھے۔اس لیے حضرت عبید اللہ کا فرض تھا کہ جب انہیں اس سازش کا علم ہو ا جس کے نتیجہ میں ان کے والد کی جان گئی تو اس کا فیصلہ امیر المومنین سے چاہتے۔اگر ان کے نزدیک سازش ثابت ہو جاتی تو وہ قصاص کا حکم جاری فرما دیتے اور اگر ثابت نہ ہوتی یا اس کے متعلق امیر المومنین ، نئے خلیفہ کے دل میں کوئی شبہ پیدا ہو جاتا تو وہ شبہ کی حد تک سزا میں تخفیف کر دیتے یا یہ فیصلہ دے دیتے کہ تنہا آبُولُولُون مجرم ہے۔386 بہر حال جو انہوں نے کیا قانونی طور پر وہ ان کا حق نہیں بنتا تھا۔مختصر یہ کہ ہر چند کہ یہ بعید از قیاس نہیں کہ یہ قتل ایک باقاعدہ سازش ہو لیکن اس وقت کے حالات کا تقاضا ہو کہ حضرت عثمان فوری طور پر اس میں تحقیق نہ کروا سکے ہوں یا جو بھی حالات ہوں ابتدائی مورخ اس کے متعلق خاموش ہیں اور اس زمانے کے کچھ مؤرخ قرائن کی روشنی میں اس پر بحث