اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 223 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 223

محاب بدر جلد 3 223 حضرت عمر بن خطاب حضرت ابو بر دہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عوف بن مالک نے ایک خواب دیکھا کہ لوگ ایک میدان میں جمع کیے گئے ہیں۔ان میں سے ایک شخص دوسرے لوگوں سے تین ہاتھ بلند ہے۔میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ کہا یہ عمر بن خطاب ہیں۔میں نے پوچھا کہ وہ کس وجہ سے باقی لوگوں سے بلند ہیں۔کہا ان میں تین خوبیاں ہیں؛ وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے ، وہ اللہ کی راہ میں شہادت پانے والے ہیں اور وہ خلیفہ ہیں جنہیں خلیفہ بنایا جائے گا۔پھر حضرت عوف اپنی خواب سنانے کے لیے حضرت ابو بکر کے پاس آئے۔حضرت ابو بکر اس زمانے میں خلیفہ تھے۔انہیں یہ بتایا تو حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ کو بلایا اور ان کو بشارت دی اور حضرت عوف سے فرمایا اپنی خواب بیان کرو۔راوی کہتے ہیں کہ جب انہوں نے یہ کہا کہ انہیں خلیفہ بنایا جائے گا تو حضرت عمر نے انہیں ڈانٹا اور خاموش کروا دیا کیونکہ یہ حضرت ابو بکر کی زندگی کا واقعہ ہے۔پھر جب حضرت عمر خلیفہ بنے تو آپ شام کی طرف گئے۔آپ خطاب فرمارہے تھے کہ آپ نے حضرت عوف کو دیکھا۔آپ نے انہیں بلایا اور منبر پر چڑھا لیا اور انہیں کہا کہ اپنی خواب سناؤ۔انہوں نے اپنی خواب سنائی۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا۔جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ میں اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتا تو میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان میں سے بنادے گا اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مجھے خلیفہ بنایا جائے گا تو میں خلیفہ مقرر ہو چکا ہوں اور میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ جو اس نے میرے سپرد کیا ہے وہ اس میں میری مدد فرمائے اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ شہید کیا جاؤں گاتو مجھے شہادت کیسے نصیب ہو سکتی ہے! میں جزیرہ عرب میں ہی رہتا ہوں اور اپنے ارد گرد کے لوگوں سے جنگ نہیں کرتا۔پھر فرمایا: اگر اللہ نے چاہا تو وہ اس شہادت کو لے آئے گا۔یعنی گو بظاہر حالات نہیں ہیں لیکن اگر اللہ چاہے تو لا سکتا ہے۔حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے بہت سے راستے اختیار کیے پھر وہ سب مٹ گئے۔صرف ایک راستہ رہ گیا اور میں اس پر چل پڑا یہاں تک کہ میں ایک پہاڑ پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس پر رسول اللہ صل اللہ کم ہیں اور آپ کے پہلو میں حضرت ابو بکر نہیں اور آپ حضرت عمر کو اشارے سے بلا رہے ہیں کہ وہ آئیں تو میں نے کہا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ اللہ کی قسم ! امیر المومنین فوت ہو گئے۔حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے کہا ( دل میں یہ کہتے ہیں کہ) آپ یہ خواب حضرت عمر کو نہیں لکھیں گے۔انہوں نے کہا میں ایسا نہیں کہ حضرت عمر ہو ان کی وفات کی خبر دوں۔سعید بن ابو ھلال سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے جمعہ کے دن لوگوں سے خطاب کیا۔آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی جس کا وہ اہل ہے۔پھر فرمایا اے لوگو! مجھے ایک خواب دکھایا گیا ہے جس سے میں سمجھتا ہوں کہ میری وفات کا وقت قریب ہے۔میں نے دیکھا کہ ایک سرخ مرغ ہے جس 376