اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 221 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 221

محاب بدر جلد 3 221 حضرت عمر بن خطاب اسلام حضرت عمرؓ کی وفات پر روئے گا۔372 شہادت کی تمنا جو حضرت عمر کو تھی اس کے بارے میں ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی علیکم کی زوجہ مطہرہ ام المومنین حضرت حفصہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللھم ارْزُقْنِي قَتْلًا فِي سَبِيلِكَ وَوَفَاةٌ فِي بَلَد نَبِيك کہ اے اللہ ! مجھے اپنے رستے میں شہادت نصیب فرما اور مجھے اپنے نبی صلی علیہ نیم کے شہر میں وفات دے۔کہتی ہیں کہ میں نے کہا یہ کیسے ممکن ہے تو حضرت عمرؓ نے الله سة فرمايا: إِنَّ اللهَ يَأْتِي بِأَمْرِهِ إِلى شَاء یقینا اللہ تعالیٰ اپنا حکم لے آتا ہے جس طرح وہ چاہے۔373 حضرت عمرؓ نے شہادت کے متعلق جو دعا کی تھی اس کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ”حضرت عمر اللہ تعالیٰ کے کتنے مقرب تھے۔رسول کریم صلی علی کرم فرماتے ہیں کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہونا ہوتا تو عمر ہوتا۔یہاں میرے بعد سے مراد معاً بعد ہے تو وہ شخص جسے رسول کریم صلی علیکم بھی اس قابل سمجھتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے کسی کو شہادت کے مرتبہ سے اٹھا کر نبوت کے بلند مرتبہ پر فائز کرنا ہوتا تو اس کا مستحق عمر تھا۔وہ عمر جس کی قربانیوں کو دیکھ کر یورپ کے اشد ترین مخالف بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس قسم کی قربانی کرنے اور اس طرح اپنے آپ کو مٹا دینے والا انسان بہت کم ملتا ہے اور جس کی خدمات کے متعلق وہ یہاں تک غلو کرتے ہیں کہ اسلام کی ترقی کو ان سے ہی وابستہ کرتے ہیں۔وہ عمر دعا کیا کرتے تھے کہ الہی ! میری موت مدینہ میں ہو اور شہادت سے ہو۔“ حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے یہ دعا محبت کے جوش میں کی ورنہ یہ دعا تھی بہت خطرناک۔اس کے معنے یہ بنتے تھے کہ کوئی اتناز بر دست غنیم ہو ایسا حملہ آور حملہ کرنے والا ہو کہ جو تمام اسلامی ممالک کو فتح کرتا ہوا مدینہ پہنچ جائے اور پھر وہاں آکر آپ کو شہید کرے لیکن اللہ تعالیٰ جو دلوں کا حال جانتا ہے اس نے حضرت عمر کی اس خواہش کو بھی پورا کر دیا اور مدینہ کو بھی ان آفات سے بچا لیا جو بظاہر اس دعا کے پیچھے مخفی تھیں اور وہ اس طرح کہ اس نے مدینہ میں ہی ایک کافر کے ہاتھ سے آپ کو شہید کروا دیا۔بہر حال حضرت عمر کی دعا سے پتہ لگ جاتا ہے کہ ان کے نزدیک خدا تعالیٰ کے قرب کی یہی نشانی تھی کہ اپنی جان کو اس کی راہ میں قربان کرنے کا موقع مل سکے لیکن آج قرب کی یہ نشانی سمجھی جاتی ہے۔“ اپنے خطبہ میں ایک وصیت کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ ، احمدیوں کو فرمارہے ہیں کہ ”لیکن آج قرب کی یہ نشانی سمجھی جاتی ہے کہ خدا بندہ کی جان بچالے۔“ ایک اور جگہ حضرت عمر کی شہادت کا واقعہ اور دعا کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے متعلق لکھا ہے کہ آپ ہمیشہ دعا کرتے تھے کہ مجھے موت مدینہ میں آئے اور شہادت کی موت آئے۔دیکھو موت کس قدر بھیانک چیز ہے۔موت کے وقت عزیز سے عزیز بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔374"