اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 220
حاب بدر جلد 3 220 حضرت عمر بن خطاب غریب زور و قوت کے ساتھ قائم رکھا یہ حضرت عمر کا خاصہ ہے۔عراق کی فتوحات میں حضرت عمرؓ نے در حقیقت خود سپہ سالاری کا کام کیا تھا۔فوج جب مدینہ سے روانہ ہوئی تو ایک ایک منزل بلکہ راستہ تک خود متعین کر دیا تھا کہ یہاں سے جانا ہے، یہاں سے گزرنا ہے، یہاں یہ کرنا ہے اور اس کے موافق تحریری احکام بھیجتے رہتے تھے۔فوج جب قادسیہ کے قریب پہنچی تو موقع کا نقشہ منگوا کر بھیجا اور اس کے لحاظ سے فوج کی ترتیب اور صف آرائی سے متعلق ہدایتیں بھیجیں۔جس قدر افسر جن جن کاموں پہ مامور ہوتے تھے ان کے خاص حکم کے موافق مامور ہوتے تھے۔تاریخ طبری میں اگر عراق کے واقعات کو تفصیل سے دیکھو تو صاف نظر آتا ہے کہ ایک بڑا سپہ سالار دور سے تمام فوجوں کو لڑا رہا ہے اور جو کچھ ہوتا ہے اس کے اشاروں پر ہوتا ہے۔ان تمام لڑائیوں میں جو دس برس کی مدت میں پیش آئیں سب سے زیادہ خطر ناک دو موقعے تھے ایک نہاوند کا معرکہ جب ایرانیوں نے فارس کے صوبہ جات میں ہر جگہ نقیب دوڑا کر تمام ملک میں آگ لگا دی تھی اور لاکھوں فوج مہیا کر کے مسلمانوں کی طرف بڑھے تھے۔دوسرے جب قیصر روم نے جزیرہ والوں کی اعانت سے دوبارہ حمص پر چڑھائی کی تھی۔ان دونوں معرکوں میں صرف حضرت عمر کی حسن تدبیر تھی جس نے ایک طرف ایک اٹھتے ہوئے طوفان کو دبا دیا اور دوسری طرف ایک کوہِ گراں کے پر خچے اڑا دیے۔ان واقعات کی تفصیل کے بعد یہ دعوی صاف ثابت ہو جاتا ہے کہ جب سے دنیا کی تاریخ معلوم ہے آج تک کوئی شخص فاروق اعظم کے برابر فاتح اور کشور کشا نہیں گزرا جو فتوحات اور عدل دونوں کا جامع ہو۔فتوحات بھی ملی ہوں اور عدل و انصاف بھی قائم کیا ہو۔آنحضرت علی علم کا حضرت عمرؓ کو شہادت کی دعا دینے کے بارے میں آتا ہے اور آپ نے حضرت عمر کو شہید کہا۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی علیم نے حضرت عمرؓ کو سفید کپڑوں میں ملبوس دیکھا۔آپ نے دریافت فرمایا: 369 کیا تمہارے یہ کپڑے نئے ہیں یا دھلے ہوئے ؟ حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں رہا کہ حضرت عمر نے اس کا کیا جواب دیا لیکن رسول اللہ صلی اللی کم نے آپ کو دعا دیتے ہوئے فرمایا کہ: نئے کپڑے پہنو اور قابل تعریف زندگی گزارو اور شہیدوں کی موت پاؤ اور حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ تمہیں دنیا اور آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کرے۔370 حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی ای کم حضرت ابو بکر ، حضرت عمرؓ اور ح ر حضرت عثمان اُحد پہاڑ پر چڑھے تو وہ ان کے سمیت ملنے لگا۔آپ صلی اللہ کلم نے فرمایا۔احد ! ٹھہر جا۔تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔1 371 حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی الیم نے فرمایا کہ جبرئیل نے مجھے کہا کہ عالم