اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 219
حاب بدر جلد 3 219 حضرت عمر بن خطاب مقبوضہ کی قیمت ادا کر دی۔پیسے دے دیے۔پھر یہ لکھتے ہیں کہ اگر خیبر کے یہودیوں کو سازش اور بغاوت کے جرم میں نکالا تھا تو ان کی مقبوضہ ارضیات کا معاوضہ دے دیا تھا اور اضلاع کے حکام کو احکام بھیج دیے کہ جدھر سے ان لوگوں کا گزر ہو ان کو ہر طرح کی اعانت دی جائے اور جب کسی شہر میں قیام پذیر ہوں تو ایک سال تک ان سے جزیہ نہ لیا جائے۔پھر لکھتے ہیں کہ جو لوگ فتوحات فاروقی کی حیرت انگیزی کا جواب دیتے ہیں کہ دنیا میں اور بھی ایسے فاتح گزرے ہیں ان کو یہ دکھانا چاہیے کہ اس احتیاط، اس قید یعنی اتنی پابندی، اس در گزر کے ساتھ دنیا میں کس حکمران نے ایک چپہ بھی غیروں کی زمین فتح کی ہے۔اس کے علاوہ سکندر اور چنگیز وغیرہ خود ہر موقع اور ہر جنگ میں شریک رہتے تھے اور خود سپہ سالار بن کر فوج کو لڑاتے تھے اس کی وجہ سے علاوہ اس کے کہ فوج کو ایک ماہر سپہ سالار ہاتھ آتا تھا، فوج کے دل قوی رہتے تھے اور ان میں بالطبع اپنے آقا پر فدا ہونے کا جوش پیدا ہو تا تھا۔حضرت عمر تمام مدت خلافت میں ایک دفعہ بھی کسی جنگ میں شریک نہیں ہوئے۔فوجیں ہر جگہ کام کر رہی تھیں۔البتہ ان کی باگ حضرت عمرؓ کے ہاتھ میں رہتی تھی۔ایک اور بڑا واضح اور صریح فرق یہ ہے کہ سکندر وغیرہ کی فتوحات گزرنے والے بادل کی طرح تھیں۔ایک دفعہ زور سے آیا اور نکل گیا۔ان لوگوں نے جو ممالک فتح کیے وہاں کوئی نظم حکومت نہیں قائم کیا۔اس کے بر خلاف فتوحات فاروقی میں یہ استواری تھی کہ جو ممالک اس وقت فتح ہوئے تیرہ سو برس گزرنے پر آج بھی اسلام کے قبضہ میں ہیں اور خود حضرت عمرؓ کے عہد میں ہر قسم کے ملکی انتظامات وہاں قائم ہو گئے تھے۔پھر جو حضرت عمر کی فتوحات کا خاص کردار ہے اس کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ آخری سوال کا جواب عام رائے کے موافق یہ ہے کہ فتوحات میں خلیفہ وقت کا اتنا کردار نہیں ہے بلکہ اس وقت کے جوش اور عزم کی جو حالت تھی اسی کی وجہ سے تمام فتوحات ہو ئیں۔یہ ایک سوال ہے لیکن کہتے ہیں کہ جو کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کردار نہیں ہے، ہماری رائے کے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے۔حضرت عثمان اور حضرت علی کے زمانے میں بھی تو آخر وہی مسلمان تھے لیکن کیا نتیجہ ہوا۔جوش اور اثر بے شبہ برقی قوتیں ہیں لیکن یہ قوتیں اس وقت کام دے سکتی ہیں جب کام لینے والا بھی اسی زور اور قوت کا ہو۔قیاس اور استدلال کی ضرورت نہیں، واقعات خود اس کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔فتوحات کے تفصیلی حالات پڑھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ تمام فوج پتلی کی طرح حضرت عمر کے اشاروں پر حرکت کرتی تھی اور فوج کا جو نظم و نسق تھا وہ خاص ان کی سیاست اور تدبیر کی بدولت ہے۔حضرت عمرؓ نے فوج کی ترتیب، فوجی مشقیں، بیرکوں کی تعمیر ، گھوڑوں کی پرداخت، قلعوں کی حفاظت، جاڑے اور گرمی کے لحاظ سے حملوں کا تعین، فوج کی نقل و حرکت، پرچہ نویسی کا انتظام، افسران فوجی کا انتخاب یعنی جو فوجی افسران تھے ان کا انتخاب، قلعه شکن آلات کا استعمال، یہ اور اس قسم کے امور خود ایجاد کیے اور ان کو کس کس عجیب و