اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 215
اصحاب بدر جلد 3 215 حضرت عمر بن خطاب ہوں گے کہ چند صحرانشینوں نے کیونکر فارس اور روم کا تختہ الٹ دیا؟ کیا یہ تاریخ عالم کا کوئی مستثنیٰ واقعہ تھا؟ (استثنائی واقعہ تھا؟) آخر اس کے اسباب کیا تھے ؟ کیا ان واقعات کو سکندر اور چنگیز خان کی فتوحات سے تشبیہ دی جا سکتی ہے ؟ جو کچھ ہوا، اس میں فرمانروائے خلافت کا کتناحصہ تھا؟ یہ کہتے ہیں کہ ہم اس موقع پر انہی سوالات کا جواب دینا چاہتے ہیں لیکن اجمال کے ساتھ پہلے یہ بتادینا ضروری ہے کہ فتوحات فاروقی کی وسعت اور اس کے حدود اربعہ کیا تھے۔حضرت عمر کے مقبوضہ ممالک کا کل رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار تیس مربع میل تھا۔یعنی مکہ مکرمہ سے شمال کی جانب دس سو چھتیں میل، مشرق کی جانب دس سو ستاسی میل اور جنوب کی جانب چار سو تر اسی میل تھا۔یہ تمام فتوحات خاص حضرت عمر کی فتوحات ہیں اور اس کی تمام مدت دس برس سے کچھ ہی زیادہ ہے۔یہ پس منظر جو بیان ہوا ہے جس کو تاریخ کے حوالے سے میں بیان کرنے لگا ہوں یہ اس لیے ہے کہ ان فتوحات کو سمجھنے کے لیے اس بات کا جاننا بھی ضروری ہے۔بہر حال میں بیان کرتاہوں کہ یورپین مؤرخین کی ان فتوحات کے بارے میں کیا رائے ہے۔پہلے سوال کا جواب یورپین مؤرخوں نے یہ دیا ہے کہ اس وقت فارس اور روم دونوں سلطنتیں اوج اقبال سے گر چکی تھیں جو ان کا انتہا تھی وہاں تک وہ پہنچ چکی تھیں اور قانونِ قدرت ہے کہ انہوں نے نیچے گرنا ہی تھا۔پھر کہتے ہیں کہ فارس میں خسر و پرویز کے بعد نظامِ سلطنت بالکل درہم برہم ہو گیا تھا کیونکہ کوئی لائق شخص جو حکومت کو سنبھال سکتا ہو موجود نہ تھا۔دربار کے عمائدین اور ارکان میں سازشیں شروع ہو گئی تھیں اور انہی سازشوں کی بدولت تخت نشینوں میں ادل بدل ہو تا رہتا تھا۔چنانچہ تین چار برس کے عرصہ میں ہی عنان حکومت چھ سات فرمانرواؤں کے ہاتھ میں آئی اور نکل گئی۔یورپین مؤرخین یہ کہتے ہیں کہ ایک اور وجہ یہ ہوئی کہ نوشیر واں سے کچھ پہلے مُزد کیہ فرقہ کا بہت زور ہو گیا تھا جو الحاد اور زندقہ کی طرف مائل تھا۔اس فرقہ کے عقائد یہ تھے کہ لوگوں کے دلوں سے لالچ اور دیگر اختلافات کو دور کر دیا جائے اور عورت سمیت تمام مملوکات کو مشتر کہ ملکیت قرار دیا جائے یعنی عورت کی بھی کوئی عزت نہیں تھی تا کہ مذہب پاک اور صاف ہو جائے۔یہ نظریہ تھا ان کا اور بعض کے نزدیک یہ معاشرتی تحریک تھی جس کا مقصد زرتشتی مذہب کو مصفی کرنا تھا۔نوشیر واں نے گو تلوار کے ذریعہ اس مذہب کو دبا دیا تھا لیکن بالکل اس کو مٹانہ سکا۔اسلام کا قدم جب فارس میں پہنچا تو اس فرقے کے لوگوں نے مسلمانوں کو اس حیثیت سے اپنا پشت پناہ سمجھا کہ وہ کسی مذہب اور عقائد سے تعرض نہیں کرتے تھے۔یہ یورپین مؤرخین کا نظریہ ہے۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ عیسائیوں میں نشطوری فرقہ (Nestorian) جس کو اور کسی حکومت میں پناہ نہیں ملتی تھی وہ اسلام کے سائے میں آکر مخالفوں کے ظلم سے بچ گیا۔اس طرح مسلمانوں کو دو بڑے فرقوں کی ہمدردی اور اعانت مفت میں ہاتھ آگئی۔روم کی سلطنت خود کمزور ہو چکی تھی۔اس کے ساتھ عیسائیت کے باہمی اختلافات ان دنوں زوروں پر تھے اور چونکہ اس وقت تک مذہب کو نظام حکومت میں دخل تھا