اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 1 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 1

اصحاب بدر جلد 3 1 2 حضرت عمر بن خطاب نام و نسب حضرت عمر بن خطاب حضرت عمر کا تعلق قبیلہ بنو عدی بن کعب بن لوی سے تھا۔آپ کے والد کا نام خطاب بن نفیل تھا۔ایک قول کے مطابق آپ کی والدہ کا نام حنتمہ بنت ہاشم تھا۔اسی طرح آپ کی والدہ ابو جہل کی چا زاد ہمشیرہ بنتی ہیں اور دوسرے قول کے مطابق ان کی والدہ کا نام حنتمہ بنت ہشام تھا۔اس طرح وہ ابو جہل کی بہن بنی ہیں لیکن یہ روایت جو بہن والی ہے یہ زیادہ تسلیم نہیں کی جاتی۔ابو عمر کہتے ہیں کہ جو یہ کہتا ہے کہ ابو جہل کی بہن تھیں تو اس نے خطا کی۔اگر ایسا ہو تا تو ابو جہل اور حارث کی بہن ہو تیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔وہ ان دونوں کی چا کی بیٹی تھیں۔ان کے والد کا نام ہاشم ہے۔حضرت عمر کی تاریخ پیدائش کے بارے میں مختلف روایات بیان ہوئی ہیں جن کے مطابق حضرت عمر کی تاریخ پیدائش کا سال الگ الگ بنتا ہے۔چنانچہ ایک رائے یہ ہے کہ حضرت عمرؓ بڑی جنگ فجار سے چار سال قبل پیدا ہوئے تھے جبکہ دوسری جگہ لکھا ہے کہ بڑی جنگ فجار کے چار سال بعد پیدا ہوئے تھے۔اسے جنگ فجار اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ لڑائی حرمت والے مہینے میں ہوئی جو بہت فسق و فجور والی بات ہے۔یہ جنگ چار مرحلوں میں ہوئی تھی۔چوتھی جنگ کو الْفِجَارُ الْأَعْظم ، بڑی جنگ فجار کے علاوہ الْفِجَارُ الْأَعْظَمُ الْآخِرِ آخرى بڑی جنگ فجار بھی کہتے ہیں۔یہ قریش اور بنو کنانہ نیز ہوازن کے درمیان ہوئی تھی۔ایک دوسری رائے یہ ہے کہ حضرت عمر عام الفیل کے تیرہ سال بعد مکہ میں پیدا ہوئے تھے۔2 عام الفیل 570 عیسوی کا سال ہے اور اس کے تیرہ سال بعد کے حساب سے حضرت عمر کی پیدائش کا سال 583ء بنتا ہے۔تیسری رائے یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے 6 / نبوی میں اسلام قبول کیا اور اس وقت ان کی عمر 26 سال تھی۔3 سنہ عیسوی کے اعتبار سے 6/ نبوی 616/ عیسوی کا سال بنتا ہے۔اگر اس وقت حضرت عمر 26 سال کے تھے تو ان کی پیدائش کا سال 590ء بنتا ہے۔چوتھی رائے یہ ہے کہ حضرت عمر تب پیدا ہوئے جب نبی کریم صلی ا یکم اکیس سال کے تھے۔4 بہر حال یہ مختلف آرا ہیں، تقریباً اکیس اور چھبیس سال کے درمیان کی عمر بنتی ہے جب انہوں نے