اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 160
محاب بدر جلد 3 160 حضرت عمر بن خطاب خطبہ دے رہے تھے کہ آپ نے فرمایا: يَا سَارِيَة بن زُنَيْم ! الْجَبَل الْجَبَل۔یعنی اے سَارِيَه بن زُنَيْم ! پہاڑ پہاڑ۔مسلمان لشکر جس جگہ پر مقیم تھا اس کے قریب ہی ایک پہاڑ تھا۔اگر وہ اس کی پناہ لیتے تو دشمن صرف ایک طرف سے حملہ آور ہو سکتا تھا۔پس انہوں نے پہاڑ کی جانب پناہ لے لی۔اس کے بعد انہوں نے جنگ کی اور دشمن کو شکست دی اور بہت سا مال غنیمت حاصل کیا۔اس مال غنیمت میں جو اہرات کا ایک صندوقچہ بھی تھا جسے مسلمان لشکر نے باہمی اتفاق رائے سے حضرت عمرؓ کے لیے ہبہ کر دیا۔حضرت ساریہ نے اس صندوقچے کے ساتھ اور فتح کی خوشخبری کے ساتھ ایک اینچی کو حضرت عمر کی طرف بھجوایا۔جب وہ اینچی مدینہ پہنچا تو اس وقت حضرت عمر لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے اور آپ کے ہاتھ میں وہ عصا تھا جس کے ذریعہ وہ اونٹوں کو ہنکایا کرتے تھے۔اس قاصد نے حضرت عمرؓ سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی تو حضرت عمرؓ نے اسے کھانے پہ بٹھا دیا۔چنانچہ وہ کھانے پر بیٹھ گیا۔جب وہ کھانے سے فارغ ہوا تو حضرت عمرؓ جانے لگے۔وہ شخص پھر کھڑے ہو کر ان کے پیچھے پیچھے جانے لگا۔حضرت عمرؓ نے اس کو اپنے پیچھے آتے دیکھ کر گمان کیا کہ اس شخص کا پیٹ ابھی نہیں بھرا۔لہذا جب آپ اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو فرمایا اندر آجاؤ اور آپؐ نے نانبائی کو حکم دیا کہ دستر خوان پر کھانا لائے۔چنانچہ کھانالا یا گیا جو روٹی اور زیتون اور نمک پر مشتمل تھا۔پھر آپ نے اس شخص سے فرمایا کھاؤ جب وہ کھانے سے فارغ ہوا تو اس شخص نے کہا اے امیر المومنین! میں سَارِیہ بن زُنیم کا ایٹی ہوں۔آپ نے فرما یا خوش آمدید۔پھر وہ آپ کے قریب آیا یہاں تک کہ اس کا گھٹنا حضرت عمرؓ کے گھٹنے سے چھونے لگا۔پھر حضرت عمرؓ نے اس سے مسلمانوں کے بارے میں پوچھا۔پھر ساریہ کے بارے میں پوچھا تو اس نے آپ کو بتایا۔پھر اس نے صند و قیچے کا حال بیان کیا تو حضرت عمرؓ نے اس کی طرف دیکھا اور بلند آواز سے فرمایا: نہیں۔اس میں کوئی عزت والی بات نہیں ہے۔اس لشکر کے پاس جاؤ اور اسے ان کے درمیان تقسیم کرو۔یہ جو اہرات جو مجھے بھیجے ہیں یہ لشکر کو ہی تقسیم کر دو۔اس نے عرض کیا کہ اے امیر المومنین امیرا اونٹ لاغر ہو گیا ہے اور میں نے انعام کی توقع پر قرض بھی لیا تھا۔پس آپ مجھے اتنا دیں جس سے میں ان کی تلافی کر سکوں۔وہ اصرار کرتا رہا یہاں تک کہ حضرت عمرؓ نے اس کے اونٹ کے بدلے صدقے کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ اسے دیا اور اس کا اونٹ لے کر صدقے کے اونٹوں میں شامل کیا اور وہ اینچی معتوب اور محروم ہوتے ہوئے بصرہ پہنچا اور حضرت عمرؓ کے حکم پر عمل کیا۔یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ جب قاصد فتح کی خوشخبری لے کر مدینہ آیا تو اہل مدینہ نے اس سے ساریہ کے بارے میں پوچھا اور فتح کے بارے میں اور یہ کہ کیا جنگ کے دن مسلمانوں نے کوئی آواز سنی تھی؟ اس نے کہا کہ ہاں ہم نے سنا تھا یا سارية الجبل۔یعنی اے ساریہ پہاڑ کی طرف ہٹ جاؤ۔اس وقت قریب تھا کہ ہم ہلاک ہو جاتے۔پس ہم نے پہاڑ کی طرف پناہ لی تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی۔289