اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 147
اصحاب بدر جلد 3 147 حضرت عمر بن خطاب نے ابھی عام مقابلے کی اجازت نہ دی تھی۔حضرت نعمان عاشق رسول تھے اور آنحضرت کی یہ کم کا عام معمول یہ تھا کہ اگر صبح جنگ شروع نہ ہو تو پھر زوال کے بعد لڑائی کا اقدام فرماتے جبکہ گرمی کی شدت نہ رہتی اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگتیں۔بعض مسلمان مقابلے کے لیے بے قرار تھے اور دشمن کے تیروں سے کچھ لوگوں کے زخمی ہو جانے سے یہ جوش اور بھی بڑھ گیا تھا۔وہ سر دار لشکر کی خدمت میں جاکر اجازت مانگتے اور آپ کہتے کہ ذرا اور انتظار کر و یعنی کمانڈر نے ان کو کہا کہ اور انتظار کرو۔حضرت مغیرہ بن شعبہ بے قرار ہو کر بولے۔میں ہو تا تو مقابلے کی اجازت دے دیتا۔نعمان نے جواب دیا ذرا دیر اور صبر کرو۔بے شک جب آپ امیر ہوتے تھے تو عمدہ انتظام کرتے تھے مگر آج بھی خدا ہمیں اور آپ کو رسوا نہیں کرے گا۔جو چیز آپ جلدی کر کے حاصل کرنا چاہتے ہیں ہمیں اس کو تحمل سے کام لے کر حاصل کرنے کی امید ہے۔جب دو پہر ڈھلنے کو تھی تو حضرت نعمان گھوڑے پر سوار ہوئے اور سارے لشکر کا چکر لگایا اور ہر جھنڈے کے پاس کھڑے ہو کر نہایت پُر جوش تقریر کی۔262 اور نہایت درد ناک الفاظ میں اپنی شہادت کے لیے دعا کی جس کو سن کر لوگ رونے لگے۔اس کے بعد آپ نے ہدایت کی کہ میں تین مرتبہ تکبیر کہوں گا اور ساتھ ہی جھنڈ ا ہلاؤں گا۔پہلی مرتبہ ہر شخص مستعد ہو جائے۔دوسری دفعہ ہتھیار تول لے یعنی ہتھیاروں کو تیار رکھے اور دشمن پر ٹوٹ پڑنے کے لیے بالکل تیار ہو جائے اور تیسری مرتبہ تکبیر کہنے اور جھنڈ اہلانے کے ساتھ ہی میں دشمن کی صفوں پر جا پڑوں گا۔تم میں سے ہر شخص اپنے مقابل کی صفوں پر حملہ کر دے۔اس کے بعد دعا کی کہ اے خدا! اپنے دین کو عزت دے۔اپنے بندوں کی نصرت فرما اور اس کے بدلے میں نعمان کو پہلا شہید ہونے کی توفیق عطا کر۔یعنی کمانڈر نے یہ دعا کی۔حضرت نعمان نے تیسری بار تکبیر کہی تھی کہ مسلمان دشمن کی صفوں پر ٹوٹ پڑے۔راوی کہتا ہے کہ جوش کا یہ عالم تھا کہ کسی ایک کے متعلق بھی یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ مرے یا فتح حاصل کیے بغیر واپس جانے کا خیال بھی رکھتا ہو۔نعمان جھنڈا لیے خود اس تیزی سے دشمن پر لیکے کہ دیکھنے والوں کو یوں معلوم ہو تا تھا کہ جھنڈا نہیں بلکہ کوئی عقاب جھپٹا مار رہا ہے۔غرض مسلمان تلواریں لے کر یکجائی طور پر حملہ آور ہوئے مگر دشمن کی صفیں بھی اس ریلے کے سامنے جمی ہوئی تھیں۔لوہے کے لوہے سے ٹکرانے سے سخت شور ہو رہا تھا۔زمین پر خون بہنے کی وجہ سے مسلمان شہ سواروں کے گھوڑے پھسلنے لگے۔حضرت نعمان جنگ میں زخمی ہو گئے تھے۔آپ کا گھوڑا بھی پھسلا اور آپ زمین پر گر پڑے۔آپ اپنی سفید قبا اور ٹوپی کی وجہ سے نمایاں طور پر نظر آتے تھے۔آپ کے بھائی نعیم بن مقرن نے جب آپ کو گرتے دیکھا تو کمال ہوشیاری سے جھنڈا گرنے سے قبل ہی اٹھالیا اور حضرت نعمان کو کپڑے سے ڈھانک دیا اور جھنڈا لے کر حذیفہ بن یمان کے پاس آئے جو حضرت نعمان کے جانشین تھے۔حضرت حلیفہ نُعیم بن مُقَرَّن کو