اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 120
باب بدر جلد 3 120 حضرت عمر بن خطاب رستم نے سخت برہم ہو کر قسم کھا کر کہا کہ آفتاب کی قسم ! کل ابھی دن مکمل نکلنے بھی نہ پائے گا کہ ہم اس سے قبل ہی تم سب کو تہ تیغ کر دیں گے۔حضرت مغیرہ کے بعد بھی چند سمجھدار مسلمانوں کو حضرت سعد نے رستم کے دربار میں بھیجا جن کی شام کو واپسی ہوئی۔حضرت سعد نے مسلمانوں کو مورچہ بند ہونے کا حکم دیا اور ایرانیوں کی طرف پیغام بھجوایا کہ دریا عبور کرنا تمہارا کام ہے۔پل پر مسلمانوں کا قبضہ تھا اس لیے ایرانیوں کو دوسری جگہ ساری رات دریائے عقیق پر پل بنانا پڑا۔رستم نے پل عبور کرتے وقت کہا کہ کل ہم مسلمانوں کو پیس کر رکھ دیں گے۔آگے سے ایک شخص نے کہا۔اس کے ساتھیوں میں سے کسی نے کہا کہ اگر اللہ چاہے تو۔شاید اس کو اللہ پر بھی یقین تھا۔اس پر رستم نے کہا! اگر اللہ نہ بھی چاہے (نعوذ باللہ ) تب بھی ہم پیس دیں گے۔بیماری کے باوجو د لشکر کی کمان۔۔مسلمان اپنی صف بندی مکمل کر چکے تھے اور حضرت سعد کے جسم میں پھوڑے نکل آئے۔اس دوران ان کو بیماری ہو گئی ، پھوڑا نکل آیا اور وہ عزقُ النّسا یعنی شیاٹیکا Sciatica کی بیماری کے باعث بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے۔وہ سینے کے بل لیٹے رہتے تھے۔ان کے سینے کے نیچے تکیہ رکھا ہو تا تھا جس کے سہارے وہ محل کی چھت سے یا درخت کے اوپر جو مچان بنائی تھی اس کے اوپر سے لشکر کی طرف دیکھتے رہتے۔حضرت سعد نے خالد بن عرفطہ کو اپنا نائب مقرر کیا۔حضرت سعد نے مسلمانوں سے خطاب کیا اور انہیں جہاد کی ترغیب دی اور اللہ کی فتح کا وعدہ یاد دلایا۔اہل فارس کی افواج دریائے عتیق کے کنارے تھیں۔یہ دریائے عتیق بھی ایک دریا ہے جو فرات سے نکلتا ہے اور مسلمانوں کی افواج قدیس کی دیوار اور خندق کے ساتھ تھیں۔قدیس قادسیہ کے نزدیک ایک احاطہ ہے جو دریائے عتیق سے ایک میل کے فاصلے پر تھا۔ایرانی فوج میں سے تیس ہزار زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی یعنی آپس میں انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ زنجیریں باندھی ہوئی تھیں تاکہ کسی کو دوڑنے کا موقع نہ ملے۔حضرت سعد نے مسلمانوں کو سورۃ انفال پڑھنے کا حکم دیا۔جب تلاوت کی گئی تو مسلمانوں نے سکینت محسوس کی۔نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد مسلمانوں اور اہل فارس کے درمیان لڑائی کا آغاز ہوا۔انہوں نے مسلمانوں کو کافی نقصان پہنچایا۔قبیلہ بنو تمیم کے ماہر تیر اندازوں کو بلا کر حضرت عاصم نے کہا کہ اپنے تیروں کے ذریعہ ان ہاتھیوں پر بیٹھے سواروں پر حملہ کرو اور بہادر سپاہیوں سے کہا کہ ہاتھیوں کی پشت پر جا کر ان کے ہو دجوں کے بندھ کاٹ ڈالو۔چنانچہ کوئی ہاتھی ایسانہ بچا جس کے اوپر سے اس کا سامان اور سوار باقی بچا ہو۔سورج غروب ہونے کے بعد تک لڑائی جاری رہی۔پہلے روز قبیلہ بنو اسد کے پانچ سو مسلمان شہید ہوئے۔اس دن کو یوم ارمان کہا جاتا ہے۔دوسرے روز صبح ہوئی تو حضرت سعد نے سب شہداء کو دفنایا اور زخمیوں کو عورتوں کے سپر د کیا تا کہ وہ ان کی دیکھ بھال