اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 107 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 107

اصحاب بدر جلد 3 107 حضرت عمر بن خطاب 190 تاریخی کتب میں ملتا ہے۔تاریخ طبری میں یہ سارا واقعہ ہے جس سے یہ اخذ کیا گیا ہے۔جنگ نمارق اکسکر تیرہ ہجری میں ایک جنگ ہوئی جو جنگ تمارق اور گشگر کہلاتی ہے۔حضرت ابوعبیڈ کے لشکر لے کر روانہ ہونے سے قبل ہی حضرت ملنی واپس جیرہ (حیرہ عراق کی قدیمی عربی حکومت کا پایہ تخت تھا اور فرات کے مغرب میں اس مقام پر واقع تھا جہاں بعد میں کو فہ آباد ہو اوہاں) چلے گئے اور بدستور اپنی فوج کی قیادت سنبھال لی لیکن جلد ہی ایسی صورت حال پیدا ہو گئی کہ حضرت مثٹی کو اپنی افواج سمیت پیچھے ہٹنا پڑا۔اس کی تفصیل یوں ہے کہ ایرانی دربار رؤساء اور امراء کے باہمی مناقشات اور اختلافات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا کہ ایک نئی اور زبر دست شخصیت کا ظہور ہوا جو خراسان کے گورنر فرخ زاد کے بیٹے رستم کی تھی۔ایرانی دربار کی طرف سے رستم سیاہ وسفید کا مالک بنادیا گیا اور وہ سب اراکین سلطنت جو تفرقہ اور انتشار سے ملک کی طاقت کمزور کرنے کا سبب بنے ہوئے تھے اب رستم کی اطاعت کا دم بھر نے لگے۔رستم ایک بہادر اور صاحب تدبیر انسان تھا۔اس نے عنان قیادت ہاتھ میں لیتے ہی مسلمانوں کے مفتوحہ علاقوں میں اپنے کارندے بھیجوا کر بغاوت کروا دی اور فرات کے ملحقہ اضلاع میں مسلمانوں کے خلاف سخت جوش بھر دیا اور حضرت مثلی کے مقابلہ کے لیے ایک لشکر روانہ کیا۔ان حالات کو دیکھ کر حضرت مشکی نے کچھ پیچھے ہٹ جانا مناسب سمجھا اور حیرہ کو چھوڑ کر خَفّان (کوفہ کے قریب ایک مقام ہے اس جگہ ) آکر قیام پذیر ہو گئے۔ادھر رستم برابر فوجی سر گرمیوں میں مشغول تھا۔اس نے زبر دست لشکر تیار کر کے دو مختلف راستوں سے مسلمانوں کے مقابلے کے لیے روانہ کیے۔ایک لشکر جانتان کی سر کردگی میں تھا جو مقام تمارق میں اترا ، تمہاری بھی عراق میں کوفہ کے قریب ایک جگہ ہے اور دوسرا لشکر نوینی کی سر کردگی میں گشگر کی طرف روانہ کیا گیا۔گشگر بغداد اور بصرہ کے درمیان دجلہ کے قریب غربی کنارے پر ایک شہر ہے جس کے آثار پر واسط کا شہر آباد ہے۔حضرت منگلی کو مدینہ سے آئے ہوئے ابھی ایک مہینہ ہی ہوا تھا کہ حضرت ابو عبید مجاہدین کا لشکر لیے ہوئے حقان میں ان سے آملے۔خفان بھی کوفہ کے قریب ایک مقام کا نام ہے۔اور چند ہزار لشکر اس وقت محاذ جنگ پر پہنچا جب عراق میں عام صورت حالات مسلمانوں کے لیے مسلمانوں کا بہ خوش کن نہ تھی اور مفتوحہ اضلاع ایک ایک کر کے ان کے ہاتھوں سے نکل رہے تھے۔حضرت ابوعبید نے خفَّان میں اجتماع لشکر کی غرض سے چند روز قیام کے بعد نمارِق کا رخ کیا۔وہاں ایک زبر دست ایرانی لشکر ایک بوڑھے تجربہ کار ایرانی سپہ سالار جانبان کی سر کردگی میں خیمہ زن تھا۔حضرت ابوعبید نے لشکر کی تنظیم کی۔رسالہ حضرت مثنی کی سر کردگی میں دیا۔میمنہ کی کمان والی پری چیکارہ کو دی اور میسرہ کا کمانڈر عمر و بن هیئم کو مقرر کیا۔ایرانی لشکر کے دونوں بازوؤں کی کمان جشن ماہ اور مردان شاہ کر رہے تھے۔