اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 104
تاب بدر جلد 3 104 حضرت عمر بن خطاب حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں فتوحات آپ کے دورِ خلافت میں جو جنگیں ہوئیں اور جو فتوحات ہو ئیں اس ضمن میں لکھا ہے کہ: حضرت عمر کا دورِ خلافت تقریباً ساڑھے دس سال پر محیط تھا۔یہ تاریخ تیرہ ہجری سے تیس ہجری تک ہے۔اس دور میں ہونے والی فتوحات کی وسعت کا ذکر کرتے ہوئے علامہ شبلی نعمانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے مفتوحہ علاقوں کا کل رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار تیس مربع میل بنتا ہے۔ان مفتوحہ علاقوں میں یہ علاقے شامل ہیں۔شام، مصر، ایران اور عراق، خوزستان، آرمینیا، آذربائیجان، فارس، کرمان، خراسان اور مکران جس میں بلوچستان کا بھی کچھ حصہ آتا ہے۔188 اسلامی جنگوں اور فتوحات کا سلسلہ تو حضرت ابو بکر کے دور میں شروع ہو گیا تھا۔آپ کے دور میں، (حضرت ابو بکڑ کے دور میں ) شام اور عراق میں اسلامی افواج جہاد میں مصروف تھیں اور بیک وقت کئی محاذوں پر جہاد جاری تھا اور پھر یہ سلسلہ چلتا گیا اور حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں بھی اسی طرح جاری رہا۔حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں ایک بات جو بہت نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عمرؓ اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود گویا ہر فتح کے وقت مسلمانوں کے لشکر میں موجود تھے۔اگر چہ آپ نے اپنے دور خلافت میں کسی جنگ میں بھی باقاعدہ حصہ نہیں لیا تا ہم مسلمان کمانڈروں کو لشکر کے حوالے سے جملہ ہدایات مدینہ سے آپ بھجواتے یا جہاں بھی آپؐ موجود ہوتے وہاں ان سے رابطہ میں رہتے بلکہ بعض جنگوں کے حالات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کی مسلمان سپہ سالاروں سے خط و کتابت روزانہ کی بنیاد پر جاری رہی اور حضرت عمرؓ نے مدینہ میں بیٹھ کر مسلمانوں کو اپنے لشکروں کو ترتیب دینے کی ہدایات دیں اور ان کو ان علاقوں کے بارے میں ایسے بتایا، اس طرح کی ہدایات دیں گویا حضرت عمرؓ کے سامنے ان علاقوں کا نقشہ موجود تھا یا وہ علاقے حضرت عمرؓ کے سامنے تھے۔امام بخاری نے صحیح بخاری میں حضرت عمر کے متعلق لکھا ہے۔189 وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنِّي لَأُجَهْرُ جَيْشِيَ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ کہ حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنے لشکر تیار کرتا ہوں اور میں نماز میں ہو تا ہوں۔یعنی آپ اس قدر متفکر ہوتے تھے کہ نماز کے دوران میں بھی اسلامی فوجوں کی منصوبہ بندی اور پلاننگ کا کام جاری رہتا تھا۔اس دوران دعا بھی کرتے رہتے ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں جابجا نظر آتا ہے کہ آپ کی ہدایات کی پیروی کرتے ہوئے مسلمان فوجوں نے مشکل سے مشکل حالات میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے فتوحات حاصل کیں۔سید میر محمود احمد صاحب نے بھی حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت پر ایک مقالہ لکھا تھا اور اس سے بھی ہمارے نوٹس تیار کرنے والوں نے مدد لی ہے۔ریسرچ سیل نے بعض نوٹس لیے ہیں لیکن بہر حال یہ