اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 97 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 97

اصحاب بدر جلد 3 97 حضرت عمر بن خطاب رکاب کے سہارے سے سوار نہ ہوں۔گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے رکاب میں پاؤں ڈال کے نہیں سوار ہونا بلکہ چھلانگ مار کے سوار ہونا ہے۔نرم کپڑے نہ پہنیں۔دھوپ سے بچیں اور حماموں میں نہ نہائیں۔وہاں زیادہ آرام طلبی کی عادت پڑ جاتی ہے۔حضرت عمر بہار کے موسم میں فوج کو سر سبز و شاداب علاقوں میں بھیج دیتے تھے۔فوجی بیر کس اور چھاؤنیوں کے بناتے وقت آب و ہوا کو مد نظر رکھا جاتا۔یہ بھی ضروری تھا کہ سر سبز علاقوں میں فوجوں کو بھیجا جائے تاکہ وہاں تازہ فضا سے ان کی صحت بھی اچھی رہے۔آب و ہوا کو مد نظر رکھا جاتا تھا۔تمام اضلاع میں فوجی چھاؤنیاں بنوائیں۔فوجی صدر مقامات میں پدینه، کوفہ، بصره ، موصل ، فنطاط، دمشق، جمعی ، اردن ، فلسطین شامل کیے جہاں ہمیشہ فوج تعینات رہتی تھی۔ہر چار ماہ کے بعد فوجیوں کو چھٹی دی جاتی تھی۔فوجی مرکز میں بیک وقت چار ہزار گھوڑے ہوتے تھے جن کی دیکھ بھال کی جاتی۔گھوڑوں کی رانوں پر جيش في سَبِيلِ اللہ داغ کر لکھا جاتا تھا یعنی اللہ کی راہ میں لشکر۔حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں اسلامی فوج نے آلاتِ جنگ میں ترقی کی۔نئے ساز و سامان مرتب کیے جن میں قلعہ شکن ہتھیار منجنیق اور دبّابہ وغیرہ شامل تھے۔دبّابہ سے مراد وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعہ سے دشمن کے قلعوں کو توڑا اور منہدم کیا جاتا ہے۔اس کے اندر آدمی بیٹھتے اور قلعہ کی دیواروں میں سوراخ کر کے اس کی دیوار میں گرائی جاتیں۔177 اسلامی حکومت کے ماتحت غیر اقوام کے لوگ بڑے بڑے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔یہ نہیں کہ صرف مسلمانوں کو اعلیٰ عہدے دیے جاتے تھے بلکہ غیر مسلموں کو بھی اور غیر قوموں کے لوگوں کو بھی اعلیٰ عہدے دیے جاتے تھے۔حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی لیلی ظلم کے خلفاء کے زمانے میں بھی حالانکہ ابھی ملک میں پر امن طور پر ساری قو میں نہیں بسی تھیں ان حقوق کو تسلیم کیا جاتا تھا۔چنانچہ علامہ شبلی اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے صیغہ جنگ کو جو وسعت دی تھی اس کے لیے کسی قوم اور کسی ملک کی تخصیص نہ تھی یہاں تک کہ مذہب وملت کی بھی کچھ قید نہ تھی۔النٹیئر فوج میں تو ہزاروں مجوسی شامل تھے یعنی ایسے لوگ جو خدا کو نہیں مانتے، آتش پرست تھے، سورج پرست تھے وہ بھی شامل تھے جن کو مسلمانوں کے برابر مشاہرے ملتے تھے۔فوجی نظام میں بھی مجوسیوں کا پتہ ملتا ہے۔اسی طرح لکھتے ہیں کہ یونانی اور رومی بہادر بھی فوج میں شامل تھے۔چنانچہ فتح مصر میں ان میں سے پانچ سو آدمی شریک جنگ تھے اور آج پاکستان میں یہ کہتے ہیں کہ جی احمدیوں کو فوج سے نکالو۔یہ بڑی نازک ، sensitivc پوسٹیں ہیں۔حالانکہ اگر تاریخ پڑھیں تو پاکستان کی خاطر سب سے زیادہ قربانیاں احمدی افسروں نے دی ہیں۔بہر حال یہ تو ان کے اپنے فعل ہیں۔حضرت عمرؓ کے بارے میں آتا ہے کہ جب عمر و بن عاص نے فسطاط آباد کیا تو یہ جدا گانہ محلے میں آباد کیے گئے۔یہودیوں سے بھی یہ سلسلہ