اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 94 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 94

محاب بدر جلد 3 94 حضرت عمر بن خطاب ہانک کر لے جائے جاچکے تھے تو میں نے چاہا کہ ان کو چراگاہ میں لے جاؤں۔مجھے ڈر تھا کہ یہ دونوں کھو جائیں گے۔پھر اللہ مجھ سے ان کے بارے پوچھے گا۔حضرت عثمان نے کہا اے امیر المؤمنین! آپ سائے میں آئیں اور پانی پئیں۔ہم آپ کے لیے کافی ہیں۔ہم خدمت کر لیتے ہیں۔ہم بھیجنے کا انتظام کر دیتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: اپنے سائے میں کوٹ جاؤ، تم جاؤ سائے میں بیٹھو۔حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ہمارے پاس وہ ہے جو آپ کے لیے کافی ہے۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا: اپنے سائے کی طرف لوٹ جاؤ۔پھر حضرت عمر چلے گئے۔حضرت عثمان نے کہا جو چاہتا ہے کہ وہ الْقَوِی الْآمین یعنی قوی اور امانت دار کو دیکھے تو اس شخص کو دیکھ لے۔ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ عمر بن نافع نے ابو بکر عیسی سے روایت کر کے بیان کیا۔وہ کہتے تھے میں حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان اور حضرت علی بن ابی طالب کے ساتھ صدقے کے وقت آیا۔حضرت عثمان سائے میں بیٹھ گئے اور حضرت علی ان کے پاس کھڑے ہو کر وہ باتیں ان سے کہتے جاتے جو حضرت عمر کہتے تھے اور حضرت عمر با وجود سخت گرمی کے دن ہونے کے دھوپ میں کھڑے تھے اور آپ کے پاس دو سیاہ چادر میں تھیں۔ایک کی تہبند باندھ لی تھی اور ایک سر پر ڈال لی تھی اور صدقے کے اونٹوں کا معائنہ کر رہے تھے اور اونٹ کے رنگ اور ان کی عمریں لکھتے تھے۔حضرت علی نے حضرت عثمان سے کہا کہ کتاب اللہ میں تم نے حضرت شعیب کی بیٹی کا یہ قول سنا ہے ؟ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ القوى الامين (القصص: 27) یقیناً جنہیں بھی تو نوکر رکھے ان میں بہترین وہی ثابت ہو گا جو مضبوط اور امانت دار ہو۔پھر حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓ کی طرف اشارہ کر کے کہا یہ وہی الْقَوِی الْآمین ہے۔171 حضرت مصلح موعودؓ اس بارے میں واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ”حضرت عمر کا ایک واقعہ ہے۔حضرت عثمان بیان کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں میں ایک دفعہ باہر قُبه میں بیٹھا ہوا تھا اور اتنی شدید گرمی پڑرہی تھی کہ دروازہ کھولنے کی بھی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ اتنے میں میرے غلام نے مجھے کہا دیکھئے اس شدید دھوپ میں باہر ایک شخص پھر رہا ہے۔میں نے پردہ ہٹا کر دیکھا تو مجھے ایک شخص نظر آیا جس کا منہ شدت گرمی کی وجہ سے جھلسا ہوا تھا۔میں نے اس سے کہا کہ کوئی مسافر ہو گا مگر تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ وہ شخص میرے قبہ کے قریب پہنچا اور میں نے دیکھا کہ وہ حضرت عمر نہیں۔ان کو دیکھتے ہی میں گھبرا کر باہر نکل آیا اور میں نے کہا: اس وقت گرمی میں آپ کہاں ؟ حضرت عمر فرمانے لگے : بیت المال کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا جس کی تلاش میں میں باہر پھر رہا ہوں۔“ اونٹ کے گنے کا یہ بھی ایک واقعہ آتا ہے۔پہلے بھی ایک دفعہ بیان ہو چکا ہے۔حضرت عمرؓ ایک دفعہ بیت المال کا مال تقسیم کر رہے تھے کہ ان کی ایک بیٹی آگئی اور اس نے اس مال میں سے ایک درہم اٹھا لیا۔حضرت عمرؓ اسے لینے کے لیے اٹھے۔آپ کے ایک کندھے سے چادر 173 172<<