اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 84
اصحاب بدر جلد 3 84 154 حضرت عمر بن خطاب ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ مسجد نبوی کی تعمیر نو کی جائے اور لوگوں کو بارش سے بچانے کا بند و بست کیا جائے تاہم سرخ و سفید تزئین سے اجتناب کیا جائے کیونکہ یہی تزئین انسان کو مصائب میں دوچار کر دیتی ہے۔حضرت عمر نے کفایت شعاری سے کام لیا اور مسجد کو اسی طرز پر استوار کیا جیسا کہ رسول اللہ صلی العلیم کے دور مبارک میں ہوا کرتی تھی۔مسجد کی توسیع کرتے وقت انہیں اس سے ملحقہ مکانات حاصل کرنے پڑے جو کہ شمال جنوب اور مغربی جانب تھے۔کچھ لوگوں نے برضاو رغبت اپنی زمینیں مسجد کے لیے ہبہ کردیں اور کچھ کے لیے حضرت عمر کو افہام و تفہیم اور مالی ترغیب کا طریقہ اختیار کرنا پڑا۔اس طرح کچھ زمین آپ کو خرید کر مسجد میں شامل کرنا پڑی۔4 حضرت عمرؓ کے زمانے میں مردم شماری کا رواج بھی شروع ہوا یا آپ نے کروائی اور راشننگ سسٹم (rationing system) بھی خوراک کے لیے مقرر ہوا۔اس ضمن میں حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ: اسلامی حکومت کا نظم و نسق کس طرح چلتا تھا اور کیا کیا تبدیلیاں ہوئیں۔کیا کیا نئی باتیں انتظامی معاملات میں پیدا اور شروع کی گئیں۔آپ لکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی الی یکم نے مدینہ میں آکر پہلا کام یہی کیا تھا کہ جائیداد والوں کو بے جائیداد والوں کا بھائی بنا دیا۔انصار جائیدادوں کے مالک تھے اور مہاجر بے جائیداد تھے۔رسول کریم صلی علیم نے انصار اور مہاجرین دونوں میں مؤاخات قائم فرما دی اور ایک ایک جائیداد والے کو ایک ایک بے جائیداد والے سے ملا دیا اور اس میں بعض لوگوں نے اتنا غلو کیا کہ دولت تو الگ رہی، بعض کی اگر دو بیویاں تھیں تو انہوں نے اپنے اپنے مہاجر بھائیوں کی خدمت میں یہ پیشکش کی الله سة کہ وہ ان کی خاطر اپنی ایک بیوی کو طلاق دینے کو تیار ہیں۔وہ ان سے بے شک شادی کر لیں۔مساوات کی پہلی مثال تھی جو رسول کریم صلی علیم نے مدینہ میں جاتے ہی قائم فرمائی کیونکہ حکومت کی بنیاد دراصل مدینہ میں ہی پڑی تھی۔اس زمانہ میں زیادہ دولتیں نہ تھیں۔یہی صورت تھی کہ امیر اور غریب کو اس طرح ملا دیا جائے کہ ہر شخص کو کھانے کے لیے کوئی چیز مل سکے۔پھر ایک جنگ کے موقع پر بھی رسول کریم صلی علیم نے اس طریق کو استعمال فرمایا گو اس کی شکل بدل دی۔ایک جنگ کے موقع پر آپ کو معلوم ہوا کہ بعض لوگوں کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں رہی یا اگر ہے تو بہت ہی کم اور بعض کے پاس کافی چیزیں ہیں۔تو یہ صورت حال دیکھ کر رسول کریم صلی علی یکم نے فرمایا کہ جس جس کے پاس جو کوئی چیز ہے وہ لے آئے اور ایک جگہ جمع کر دی جائے۔چنانچہ سب چیزیں لائی گئیں اور آپ نے راشن مقرر کر دیا۔گویا یہاں بھی وہی طریق آگیا کہ سب کو کھانا ملنا چاہیے۔جب تک ممکن تھا سب لوگ الگ الگ کھاتے رہے مگر جب یہ امر نا ممکن ہو گیا اور خطرہ پیدا ہو گیا کہ بعض لوگ بھو کے رہنے لگ جائیں گے تو رسول کریم ملی الم نے فرمایا کہ اب تمہیں علیحدہ کھانے کی اجازت نہیں، اب سب کو ایک جگہ سے برابر کھانا ملے گا۔یہ موقع کی مناسبت کے لحاظ سے فیصلہ ہوا تھا۔کوئی سوشلزم کا یا کمیونزم کا نظریہ نہیں قائم کیا گیا تھا۔بہر حال صحابہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی الم کے اس حکم پر ہم نے اس سختی سے عمل کیا کہ اگر