اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 73 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 73

حاب بدر جلد 2 فرماتے تھے۔202 73 حضرت ابو بکر صدیق 203 جیسا کہ بیان ہوا ہے کہ مسجد کے لیے اور حجرات کے لیے یہ جو جگہ تھی یہ آنحضرت صلی ا ہم نے دس دینار میں خریدی تھی اور روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابو بکر کے مال سے یہ رقم ادا کی گئی تھی۔13 مسجد کی تعمیر کے بارے میں مزید تفصیل یوں ملتی ہے۔تعمیر شروع ہونے کے وقت آنحضرت صلی اللہ ہم نے اپنے دست مبارک سے ایک اینٹ رکھی۔پھر آپ نے حضرت ابو بکر کو بلایا تو انہوں نے آپ کی اینٹ کے ساتھ ایک اینٹ رکھی۔پھر حضرت عمر کو بلایا جنہوں نے حضرت ابو بکر کی اینٹ کے ساتھ ایک اینٹ رکھی۔پھر حضرت عثمان آئے انہوں نے ابو پھر حضرت عمر کی اینٹ کے ساتھ ایک اینٹ رکھی۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی علی یکم نے مسجد تعمیر کی تو آپ نے بنیاد میں ایک پتھر رکھا اور حضرت ابو بکر سے فرمایا کہ اپنا پتھر میرے پتھر کے ساتھ رکھو۔پھر آپ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا: اپنا پتھر ابو بکر کے پتھر کے ساتھ رکھو۔پھر حضرت عثمان سے فرمایا: اپنا پتھر عمر کے پتھر کے ساتھ رکھو۔204 محرم 17 ہجری میں جب نبی کر یم ملی ای کم غزوہ خیر سے فاتح و کامران لوٹے تو آپ نے مسجد نبوی کی توسیع اور تعمیر نو کا ارشاد فرمایا۔اس دفعہ بھی آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ مل کر مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا۔205 عبید اللہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی علی کریم نے مدینہ میں مکانوں کے لیے زمین عطا فرمائی تو حضرت ابو بکر کے لیے ان کے گھر کی جگہ مسجد کے پاس مقرر فرمائی۔06 حضرت ابو بکر کی مواخات حضرت ابو بکر کی مواخات کے بارے میں روایات ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے حضرت ابو بکر اور حضرت خارجہ بن زید کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔207 ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے درمیان عقدِ مواخات قائم فرمایا۔208 حضرت عمرؓ کے ساتھ مؤاخات مکہ میں ہوئی تھی۔اس کے بارے میں روایت آتی ہے کہ حضرت عمررؓ کے ساتھ جو مؤاخات کی روایت ملتی ہے یہ مؤاخات مکہ میں ہوئی تھی۔جیسا کہ علامہ ابن عساکر لکھتے ہیں کہ مکہ میں رسول اللہ صلی علیم نے حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر بن خطاب کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔پھر جب رسول اللہ صلی الیوم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے وہ مواخات منسوخ فرما دی سوائے دو مؤاخات کے۔وہ دو مؤاخات قائم رہیں جن میں سے ایک آپ کے اور حضرت علی کے درمیان تھی اور دوسری حضرت حمزہ اور حضرت زید