اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 62

حاب بدر جلد 2 62 حضرت ابو بکر صدیق سراقہ ! تیرا کیا حال ہو گا جب کسری کے کنگن تیرے ہاتھ میں ہوں گے سراقہ کا یہ ذکر ہوا تھا کہ وہ بھی انعام کے لالچ میں آنحضرت صلی اللی علم کو پکڑنے کی نیت سے نکلا تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے اس کے آگے روکیں کھڑی کر دیں تو اس نے اس وقت آنحضرت صلی علیکم سے درخواست کی کہ جب آپ کی حکومت ہو تو مجھے امان دیجیے اور ایک تحریر لکھوائی۔اس ضمن میں بعض روایات ہیں۔ایک روایت کے مطابق اس کے واپس لوٹتے ہوئے نبی اکرم صلی الہ ہم نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا سراقہ ! تیرا کیا حال ہو گا جب کسری کے کنگن تیرے ہاتھ میں ہوں گے۔سراقہ حیرت زدہ ہو کر پلٹا اور کہا کہ کسری بن ہرمز ؟ آپ نے فرمایا ہاں وہی کسری بن ھرمز۔چنانچہ جب حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں کسری کے کنگن اور اس کا تاج اور اس کا کمر بند لایا گیا تو حضرت عمرؓ نے سراقہ کو بلایا اور فرمایا: اپنے ہاتھ بلند کرو اور انہیں کنگن پہنائے اور فرمایا کہ کہو تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے کسریٰ بن ہرمز سے یہ دونوں چھین کر عطا کیں۔171 یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ سفر ہجرت کے وقت نہیں بلکہ جب رسول اللہ صلی الیم حسین اور طائف سے واپس تشریف لا رہے تھے تو سراقہ بن مالک نے جغرائہ کے مقام پر اسلام قبول کیا۔اور جعرانہ مکہ اور طائف کے راستے پر مکہ کے قریب ایک کنویں کا نام ہے۔آپ نے سراقہ سے فرمایا: تمہارا اُس وقت کیا حال ہو گا جب تم کسری کے کنگن پہنو گے۔172 اس بارے میں سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس طرح لکھا ہے کہ بھی آپ تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ حضرت ابو بکر نے دیکھا کہ ایک شخص گھوڑا دوڑائے ان کے پیچھے آرہا ہے۔اس پر حضرت ابو بکڑ نے گھبراکر کہا۔یارسول اللہ ! کوئی شخص ہمارے تعاقب میں آرہا ہے۔آپ نے فرمایا۔کوئی فکر نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔یہ تعاقب کرنے والا سراقہ بن مالک تھا جو اپنے تعاقب کا قصہ خود اپنے الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے کہ جب آنحضرت صلی ا کر مکہ سے نکل گئے تو کفار قریش نے یہ اعلان کیا کہ جو کوئی بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) یا ابو بکر کو زندہ یا مردہ پکڑ کر لائے گا اسے اس اس قدر انعام دیا جائے گا اور اس اعلان کی انہوں نے اپنے پیغام رسانوں کے ذریعہ سے ہمیں بھی اطلاع دی۔“ یہ سراقہ کہتا ہے۔”اس کے بعد ایک دن میں اپنی قوم بنو مد لنج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ قریش کے ان آدمیوں میں سے ایک شخص ہمارے پاس آیا اور مجھے مخاطب کر کے کہنے لگا کہ میں نے ابھی ابھی ساحل سمندر کی سمت میں دور سے کچھ شکلیں دیکھی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ شاید وہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور اس کے ساتھی ہوں گے۔سراقہ کہتا ہے کہ میں فوراً سمجھ گیا کہ ضرور وہی ہوں گے۔“ پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے وہی تفصیل بیان کی ہے جو سراقہ کے تعاقب کے وقت اور فال اس کے خلاف نکلنے اور اس کے گھوڑے کے دھننے کے بارے میں بیان ہو چکی ہے۔بہر حال سراقہ