اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 447
صحاب بدر جلد 2 447 حضرت ابو بکر صدیق برکات ظاہر کرنے والے اللہ سے سب سے زیادہ قطع تعلقی کا باعث ہے اور جس نے بھی ان سے دشمنی کی تو ایسے شخص پر رحمت اور شفقت کی سب راہیں بند کر دی جاتی ہیں اور اس کے لئے علم و عرفان کے دروازے وا نہیں کئے جاتے۔10380 پھر آپ فرماتے ہیں: ”تم ایسے شخص پر کیسے لعنت کرتے ہو جس کے دعویٰ کو اللہ نے ثابت کر دیا۔بعض لوگ، فرقے بھی ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو غلط ہیں۔آپ نے فرمایا کہ ”ایسے حص پر کیسے لعنت کرتے ہو جس کے دعویٰ کو اللہ نے ثابت کر دیا اور اس نے اللہ سے مدد مانگی تو اللہ نے اس کی مدد کی اور اس کی نصرت کے لئے نشانات دکھائے اور بد اندیشوں کی تدبیروں کو پارہ پارہ کر دیا۔اور آپ “ یعنی ” ( ابو بکر نے اسلام کو شکستہ کر دینے والی آزمائش اور جور و جفا کے سیلاب سے بچایا، اور پھنکارنے والے اثر دھا کو ہلاک کیا۔آپ نے امن و امان قائم کیا اور اللہ رب العالمین کے فضل سے ہر دروغ گو کو ناکام و نامراد کیا۔اور حضرت ابو بکر صدیق کی اور بہت سی خوبیاں اور بے حساب و بے شمار برکتیں ہیں اور مسلمانوں کی گردنیں آپ کے زیر بار احسان ہیں اور اس بات کا انکار صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو اول درجہ کا زیادتی کرنے والا ہو۔جس طرح اللہ نے آپ کو مومنوں کے لئے موجب امن اور مرتدوں اور کافروں کی آگیں بجھانے والا بنایا اسی طرح اس نے آپ کو اول درجہ کا حامی کفر قان اور خادم قرآن اور اللہ تعالیٰ کی کتاب مبین کی اشاعت کرنے والا بنایا۔پس آپ نے قرآن جمع کرنے اور رحمان خدا کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس کی بیان کردہ ترتیب دریافت کرنے میں پوری کوشش صرف فرما دی۔اور دین کی غمخواری میں آپ کی آنکھیں ایک چشمہ جاری کے بہنے سے بھی بڑھ کر اشکبار ہوئیں۔پھر حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ” عجیب بات یہ ہے کہ شیعہ حضرات “ بعض لوگ جو شیعہ ہیں یہ اقرار بھی کرتے ہیں کہ (حضرت) ابو بکر صدیق دشمنوں کی کثرت کے ایام میں ایمان لائے اور آپ نے ابتلاء کی سخت گھڑی میں (حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اختیار کی اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ) سے نکلے تو آپ بھی کمال صدق وصفا سے حضور کی معیت میں نکل کھڑے ہوئے اور تکالیف برداشت کیں اور وطن مالوف اور دوست احباب اور اپنا پورے کا پورا خاندان چھوڑ دیا اور خدائے لطیف کو اختیار فرمایا۔پھر ہر جنگ میں آپ شریک ہوئے۔کفار سے لڑے اور نبی (احمد) مختار صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی۔پھر آپ اُس وقت خلیفہ بنائے گئے جب منافقوں کی ایک جماعت مرتد ہو گئی اور بہت سے کا ذبوں نے دعویٰ نبوت کر دیا جس پر آپ ان سے جنگ و جدال کرتے رہے یہاں تک کہ ملک میں دوبارہ امن و امان ہو گیا اور فتنہ پردازوں کا گر وہ خائب و خاسر ہوا۔پھر آپ فوت ہوئے اور سید الانبیاء اور معصوموں کے امام (صلی اللہ علیہ وسلم) کی قبر کے پہلو میں دفن کئے گئے اور آپ خدا کے حبیب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہ ہوئے۔نہ زندگی 1039❝