اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 446
اصحاب بدر جلد 2 446 حضرت ابو بکر صدیق پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: ” دیکھو مکہ معظمہ میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا تو ابو جہل بھی مکہ ہی میں تھا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی مکہ ہی کے تھے لیکن ابو بکر کی فطرت کو سچائی کے قبول کرنے کے ساتھ کچھ ایسی مناسبت تھی کہ ابھی آپ شہر میں بھی داخل نہیں ہوئے تھے۔راستہ ہی میں جب ایک شخص سے پوچھا کہ کوئی نئی خبر سناؤ اور اُس نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو اسی جگہ ایمان لے آئے اور کوئی معجزہ اور نشان نہیں مانگا اگر چہ بعد میں بے انتہا معجزات آپؐ نے دیکھے اور خود ایک آیت ٹھہرے۔لیکن ابو جہل نے باوجود یکہ ہزاروں ہزار نشان دیکھے لیکن وہ مخالفت اور انکار سے باز نہ آیا اور تکذیب ہی کر تا رہا۔اس میں کیا سر تھا؟ کیا بھید تھا؟ ” پیدائش دونوں کی ایک ہی جگہ کی تھی۔ایک صدیق ٹھہرتا ہے اور دوسر ا جو ابو الحکم کہلا تا تھا وہ ابو جہل بنتا ہے۔اس میں یہی راز تھا کہ اس کی فطرت کو سچائی کے ساتھ کوئی مناسبت ہی نہ تھی۔غرض ایمانی امور مناسبت ہی پر منحصر ہیں۔جب مناسبت ہوتی ہے تو وہ خود معلم بن جاتی ہے اور امور حقہ کی تعلیم دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اہل مناسبت کا وجود بھی ایک نشان ہوتا ہے۔1036" پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”میرے رب نے مجھ پر یہ ظاہر کیا کہ صدیق اور فاروق اور عثمان (رضی اللہ عنہم ) نیکوکار اور مومن تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے چن لیا اور جو خدائے رحمن کی عنایات سے خاص کئے گئے اور اکثر صاحبانِ معرفت نے ان کے محاسن کی شہادت دی۔انہوں نے بزرگ و بر تر خدا کی خوشنودی کی خاطر وطن چھوڑے۔ہر جنگ کی بھٹی میں داخل ہوئے اور موسم گرما کی دو پہر کی تپش اور سردیوں کی رات کی ٹھنڈک کی پرواہ نہ کی بلکہ نو خیز جوانوں کی طرح دین کی راہوں پر محو خرام ہوئے اور اپنوں اور غیروں کی طرف مائل نہ ہوئے اور اللہ رب العالمین کی خاطر سب کو خیر باد کہہ دیا۔اُن کے اعمال میں خوشبو اور اُن کے افعال میں مہک ہے اور یہ سب کچھ ان کے مراتب کے باغات اور ان کی نیکیوں کے گلستانوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور ان کی بادِ نسیم اپنے معطر جھونکوں سے ان کے اسرار کا پتہ دیتی ہے اور ان کے انوار اپنی پوری تابانیوں سے ہم پر ظاہر ہوتے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں: ” بخد ا ، اللہ تعالیٰ نے سیخین“ یعنی ” ( ابو بکر و عمر کو اور تیسرے جو ذوالنورین ہیں “ یعنی حضرت عثمان ”ہر ایک کو اسلام کے دروازے اور خیر الانام (محمد رسول اللہ) کی فوج کے ہر اول دستے بنایا ہے۔پس جو شخص ان کی عظمت سے انکار کرتا ہے اور ان کی قطعی دلیل کو حقیر جانتا ہے اور ان کے ساتھ ادب سے پیش نہیں آتا بلکہ ان کی تذلیل کرتا اور اُن کو بُرا بھلا کہنے کے درپے رہتا اور زبان درازی کرتا ہے مجھے اس کے بد انجام اور سلب ایمان کا ڈر ہے۔اور جنہوں نے ان کو دکھ دیا، اُن پر لعن کیا اور بہتان لگائے تو دل کی سختی اور خدائے رحمن کا غضب ان کا انجام ٹھہرا۔میر ابار ہا کا تجربہ ہے اور میں اس کا کھلے طور پر اظہار بھی کر چکا ہوں کہ ان سادات سے بغض و کینہ رکھنا 1037"