اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 30 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 30

محاب بدر جلد 2 30 حضرت ابو بکر صدیق سینہ پر کودنے کے لئے مقرر کر دیتے۔حضرت ابو بکر نے جب ان پر یہ ظلم دیکھے تو ان کے مالک کو ان کی قیمت ادا کر کے انہیں آزاد کر وا دیا۔89 حضرت ابو بکر کی ہجرت کا ارادہ مسلمان ایک دفعہ حضرت ابو بکر نے ہجرت حبشہ کا ارادہ کیا تھا۔اس بارے میں آتا ہے کہ جب" بڑھ گئے اور اسلام ظاہر ہو گیا تو کفار قریش اپنے اپنے قبائل میں سے ان لوگوں کو سخت اذیتیں اور تکلیفیں دینے لگے جو اُن میں سے ایمان لاچکے تھے۔ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ انہیں ان کے دین سے پھر ا دیں۔اس پر رسول اللہ صلی الم نے مومنوں سے فرمایا کہ تم لوگ زمین میں بکھر جاؤ۔یقینا اللہ تم لوگوں کو اکٹھا کر دے گا۔صحابہ نے عرض کیا ہم کس طرف جائیں ؟ آپ نے فرمایا اس طرف اور آپ نے اپنے ہاتھ سے حبشہ کی سر زمین کی طرف اشارہ فرمایا۔یہ رجب سنہ 15 نبوی کی بات ہے۔آنحضرت صلی لیلم کے ارشاد پر گیارہ مر دوں اور چار عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔90 مسلمانوں کے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد حضرت ابو بکر کو بھی ایذا پہنچائی گئی جس پر انہوں نے بھی حبشہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا۔چنانچہ اس بارے میں بخاری کی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب مسلمانوں کو تکلیف دی گئی تو حضرت ابو بکر ہجرت کرنے کی غرض سے حبشہ کی طرف چل پڑے۔جب وہ بَرْك الْغِمَاد مقام پر پہنچے۔بَرْك الْغِمَاد یمن کا ایک شہر ہے جو مکہ سے آگے پانچ رات کی مسافت پر سمندر سے متصل ہے۔تو انہیں ابن دغنہ ملا اور وہ قارہ قبیلہ کا سر دار تھا۔اس نے پوچھا اے ابو بکر ! کہاں کا قصد ہے ؟ حضرت ابو بکر نے کہا میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ زمین میں چلوں پھروں اور اپنے رب کی عبادت کر تار ہوں۔ابن دغنہ نے کہا: تمہارے جیسا آدمی خود وطن سے نہیں نکلتا اور نہ اسے نکالا جانا چاہئے۔تم تو وہ خوبیاں بجالاتے ہو جو معدوم ہو چکی ہیں اور تم صلہ رحمی کرتے ہو۔تھکے ہاروں کا بوجھ اٹھاتے ہو۔مہمان نوازی کرتے ہو اور مصائب حقہ پر مدد کرتے ہو۔ایک جگہ ترجمہ اس طرح بھی کیا گیا ہے۔کنگال کو کما کر دیتے رہے ہو۔رشتہ داروں سے نیک سلوک کیا کرتے ہو۔بیچاروں کو سنبھالتے ہو اور مہمان نواز ہو اور حق کی مشکلات میں مدد کرتے ہو۔پھر اس نے کہا کہ میں تمہیں اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔واپس چلو اور اپنے وطن میں ہی اپنے رب کی عبادت کرو اور ابن دغنہ بھی چل پڑا اور حضرت ابو بکر کے ساتھ مکہ میں آیا اور کفار قریش کے سرداروں سے ملا اور ان سے کہا ابو بکر ایسے ہیں کہ ان جیسا آدمی وطن سے نہ نکلتا ہے اور نہ نکالا جاتا ہے۔کیا تم ایسے شخص کو نکالتے ہو جو ایسی خوبیاں بجالاتا ہے جو معدوم ہو چکی ہیں اور وہ صلہ رحمی کرتا ہے۔تھکے ہاروں کے بوجھ اٹھاتا ہے۔مہمان نوازی کرتا ہے اور مصائب پر مدد کرتا ہے ؟ اس پر قریش نے ابن دغنہ کی پناہ منظور کرلی اور حضرت ابو بکر کو امن دیا اور ابن دغنہ سے کہا۔ابو بکر سے کہو کہ وہ اپنے رب کی عبادت اپنے گھر میں ہی کیا کرے۔وہیں نماز پڑھے اور جو چاہے پڑھے لیکن ہمیں اپنی عبادت اور قرآن پڑھنے سے تکلیف نہ دے اور بلند آواز سے نہ پڑھے کیونکہ ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہمارے