اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 410 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 410

محاب بدر جلد 2 410 رض حضرت ابو بکر صدیق حضرت انس بن مالک انصاری نے ، یہ راوی کہتے ہیں کہ مجھے بتایا۔انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی اور خدمت کی اور آپ کی صحبت میں رہے۔پھر بتایا کہ ابو بکر اُن لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہو گئی یہاں تک کہ جب پیر کا دن ہوا اور وہ نماز میں صفوں میں تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرے کا پردہ اٹھایا۔آپ ہمیں دیکھ رہے تھے اور آپ کھڑے ہوئے تھے۔گویا کہ آپ کا چہرہ مبارک قرآن مجید کا ورق تھا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہو کر تبسم فرمایا اور ہمیں خیال ہوا کہ ہم نبی کو دیکھنے کی وجہ سے خوشی سے آزمائش میں پڑ گئے ہیں۔اتنے میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی ایڑھیوں کے بل پیچھے ہٹے تا وہ صف میں مل جائیں اور وہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے باہر تشریف لا رہے ہیں مگر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز پوری کرو اور پردہ ڈال دیا اور آپ اسی دن فوت ہو گئے۔963 ایک روایت میں ہے کہ انہی دنوں میں ایک مرتبہ حضرت عمر نے نماز پڑھائی تھی۔اس کی تفصیل یوں ملتی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن زمعہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی اور میں مسلمانوں کی ایک جماعت میں آپ کی خدمت میں موجود تھا۔حضرت بلال نے آپ کو نماز کے لیے بلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔حضرت عبد اللہ بن زمعہ باہر نکلے تو دیکھا حضرت عمر لوگوں میں تھے اور حضرت ابو بکر موجود نہ تھے۔کہتے ہیں میں نے کہا کہ اے عمر! کھڑے ہو جائیں اور لوگوں کو نماز پڑھائیں۔وہ آگے بڑھے اور اللہ اکبر کہا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سنی، (حضرت عمر کی آواز بلند آواز ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو بکر کہاں ہیں ؟ اللہ اس کا انکار کرتا ہے اور مسلمان بھی۔اللہ اس کا انکار کرتا ہے اور مسلمان بھی۔آپ نے حضرت ابو بکر کو بلا بھیجا۔وہ آئے اور بعد اس کے کہ حضرت عمر نماز پڑھا چکے تھے پھر انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔یہ بھی ایک روایت ہے۔ایک اور روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کی آواز سنی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے یہاں تک کہ آپ نے اپنا سر مبارک اپنے حجرہ سے بلند کر کے دیکھا۔پھر فرمایا: نہیں۔نہیں۔نہیں۔چاہیے کہ ابن ابی قحافہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔964 رض آپ نے یہ ناراضگی سے فرمایا۔اس روایت کی مزید تفصیل مسند احمد میں یہ ملتی ہے کہ جب حضرت عمرؓ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زمعہ سے جنہوں نے حضرت عمرؓ سے کہا تھا کہ آپ نماز پڑھائیں کہا کہ میں نے تو سمجھا تھا کہ تمہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے نماز پڑھانے کا کہا جائے وگرنہ میں کبھی بھی نماز نہ پڑھاتا۔تو اس پر انہوں نے ، عبد اللہ بن زمعہ نے کہا کہ نہیں۔میں نے جب دیکھا کہ حضرت ابو بکر نظر نہیں آرہے تو خود ہی یہ سوچا کہ اس کے بعد آپ ہی نماز پڑھانے کے اہل ہیں۔اس لیے میں نے خود آپ کی خدمت میں نماز پڑھانے کی درخواست کی تھی۔مجھے براہ راست نہیں