اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 355
صحاب بدر جلد 2 355 حضرت ابو بکر صدیق سے حملہ آور ہوا مگر یہ عور تیں ایک جگہ اکٹھی ہوئیں اور سب کا مقابلہ کیا اور کوئی قریب نہ آسکا۔حضرت خولہ کو مخاطب کرتے ہوئے بطرس نے کہا کہ اے خولہ ! اپنی جان پر رحم کرو۔میں تمہاری قدر کرتا ہوں۔میرے دل میں بھی تیرے لیے بہت کچھ ہے۔کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ میں بادشاہ جیسا آدمی تیرا مالک بنوں اور میری ساری جائیداد تمہاری جائیداد ہو جائے۔حضرت خولہ نے فرمایا اے کا فر بد بخت ! خدا کی قسم ! اگر میر ابس چلے تو ابھی تیر اسر لکڑی سے توڑ دوں۔واللہ ! مجھے تو یہ بھی پسند نہیں کہ تو میری بکریاں اور اونٹ چرائے چہ جائیکہ تو میری برابری کا دعویٰ کرے۔اس پر بطرس نے لشکر سے کہا کہ ان سب کو قتل کر دو۔لشکر والے نئے سرے سے تیار ہو رہے تھے اور ابتدائی حملہ کرنے والے تھے کہ مسلمان حضرت خالد کی سر کردگی میں وہاں پہنچ گئے۔آپ کو تمام حالات و واقعات کا علم ہوا۔عورتوں کی بہادری اور مقابلے سے مسلمان بہت خوش ہوئے اور پھر پورے لشکر نے کفار کے ارد گرد دائرہ ڈال دیا اور ایک ساتھ حملہ کیا۔حضرت خولہ نے چلا کر کہا اللہ کی مدد آگئی ہے ! اللہ نے مہربانی کر دی ہے ! جب بطرس نے مسلمانوں کو دیکھا تو پریشان ہو گیا اور بھاگنے لگا مگر بھاگنے سے پہلے اس نے دو مسلمان شہسواروں کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ان میں سے ایک خالد اور دوسرے حضرت ضر اڑا تھے۔ضرار نے اس کو ایک نیزہ مارا۔وہ گھوڑے سے گرتے گرتے بچا۔پھر ضرار نے دوسر اوار کیا اور وہ ڈھیر ہو گیا۔مسلمانوں نے بہت سے رومیوں کو قتل کیا۔جو بچ گئے وہ دمشق بھاگ گئے۔جب حضرت خالد واپس لوٹے تو بولص کو بلایا اور اس کو اسلام پیش کیا اور فرمایا اسلام قبول کرو ورنہ تیرے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو تیرے بھائی کے ساتھ کیا گیا۔بولص نے کہا میرے بھائی کے ساتھ کیا ہوا ہے۔خالد نے فرمایا اس کو قتل کیا ہے۔بولص نے اپنے بھائی کا انجام دیکھ کر کہا کہ اب زندگی کا کوئی مزہ نہیں ہے۔مجھے بھی بھائی کے ساتھ ملادو۔چنانچہ اسے بھی قتل کر دیا گیا۔810 811 بہر حال اسلامی لشکر پھر اجنادین کے مقام پر جمع ہو گئے۔یہ تفصیل پہلے بیان ہو چکی ہے۔دمشق کا یہ دوسرا محاصرہ ہوا۔پہلے تو چھوڑ آئے تھے۔اب اس جنگ کے بعد دوبارہ دمشق کے محاصرے کے بارے میں لکھا ہے کہ اجنادین کی فتح کے بعد حضرت خالد نے اسلامی لشکر کو دمشق کی جانب دوبارہ کوچ کرنے کا حکم دیا۔اہل دمشق کو اجنادین میں رومی لشکر کی شکست کی اطلاع پہلے ہی مل چکی انب دوباره وت مهد خبر ملی کہ اسلامی لشکر اب دمشق کی طرف آرہا ہے تو وہ بہت گھبر ائے۔دمشق کے اطراف میں بسنے والے بھاگ کر قلعہ میں پناہ گزین ہو گئے اور قلعہ میں کافی تعداد میں غلہ اور اشیائے صرف جمع کر لیں تاکہ اگر اسلامی لشکر کا محاصرہ لمبا ہو جائے تو ذخیرہ ختم نہ ہو۔اس کے علاوہ ہتھیار اور سامانِ جنگ بھی اکٹھا کر لیا۔قلعہ کی دیواروں پر منجنیق ، پتھر ، ڈھال، تیر ، کمان وغیر ہ سامان پہنچا دیا تا کہ قلعہ کی دیوار سے محاصرہ کرنے والوں پر حملہ کیا جائے۔اسلامی لشکر نے دمشق کے قریب