اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 289 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 289

حاب بدر جلد 2 289 حضرت ابو بکر صدیق قائم کرنے اور تسلط بٹھانے کی بھی کوشش کریں گے اور ایسی صور تحال میں اسلامی حکومت کو خطرہ پیدا ہو جائے گا۔لہذا انہوں نے بھی یہ کہا کہ اس خطرہ سے بچنے کے لیے حضرت مقلی کو قرار واقعی امداد مہیا کی جائے۔وہاں فوج بھیجی جائے اور ایرانیوں کو عرب کی حدود میں اثر ورسوخ جمانے کی بجائے مزید پسپائی پر مجبور کیا جائے تاکہ ان کی جانب سے آئندہ کبھی عرب کو کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔حضرت خالد بن ولید نے اپنی یہ رائے پیش کی تو آپ کی یہ رائے سن کے دیگر اصحاب نے بھی حضرت مشکی کی تجاویز قبول کر لیں اور حضرت ابو بکر نے حضرت مشکلی کو ان لوگوں کا سردار مقرر کر دیا جنہیں ہمراہ لے کر انہوں نے عراقی حدود میں پیش قدمی کی تھی اور حکم دیا کہ فی الحال وہاں کے عرب قبائل کو ساتھ ملانے اور اسلام قبول کرنے پر آمادہ کریں اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ جلد ہی مدینہ سے ایک لشکر بھی ان کی امداد کے لیے روانہ کر دیا جائے گا جس کی مدد سے وہ مزید پیش قدمی جاری رکھ سکیں گے۔بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ نہ مشکلی امداد کی درخواست کرنے کے لیے مدینہ گئے اور نہ حضرت ابو بکر سے ان کی ملاقات ہوئی بلکہ وہ اپنے لشکر کے ہمراہ ڈیلٹائی علاقے میں پیش قدمی کرتے ہوئے بہت دور نکل گئے اور آگے جا کر ایرانی سپہ سالار ہر مز کی افواج کا سامنا کرنا پڑا۔ھرمز اس وقت سر حدی افواج کا افسر تھا اور کسری کے نزدیک جو سب سے بڑا درجہ کیسی شخص کو مل سکتا تھا ہر مز کا شمار ان لوگوں میں ہو تا تھا۔ابھی هُرمز اور متلی کے درمیان جنگ جاری تھی کہ حضرت ابو بکر کو ان واقعات کی خبر ہو گئی۔وہ اس وقت منی کے نام سے بالکل بے خبر تھے۔ان خبروں کے پہنچنے پر جب انہوں نے تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ منی نے ارتداد اور بغاوت کی جنگوں کے دوران بحرین کے اندر متعد د کار ہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔حضرت ابو بکر نے خالد بن ولید کو حکم دیا کہ حضرت مثلی کی مدد کے لیے ایک لشکر کے ہمراہ عراق جائیں اور ھر مز پر فتحیاب ہو کر حیرہ کی جانب کوچ کریں۔حیرہ بھی کوفہ سے تین میل کے فاصلے پر ایک شہر ہے۔بہر حال ساتھ ہی حضرت عیاض بن غَنْم کو حکم دیا کہ وہ دُوْمَةُ الْجَنْدَل جائیں۔دُومَةُ الْجَندَل شام اور مدینہ کے درمیان ایک قلعہ اور بستی ہے جو مدینہ سے اس زمانے کے طریقہ سفر کے مطابق پندرہ سولہ دن کی مسافت پر تھا اور وہاں کے جو سر کش اور مرتد باشندوں کو مطیع کر کے چیرہ پہنچیں۔حضرت عیاض بن غنم رسول کریم علی تعلیم کے صحابی تھے۔آپ نے صلح حدیبیہ سے پہلے اسلام قبول کیا تھا اور اس میں شامل بھی ہوئے تھے۔حضرت ابو عبیدہ نے اپنی وفات کے وقت انہیں شام میں اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا۔حضرت عمرؓ نے انہیں اس منصب پر قائم رکھا اور فرمایا کہ میں اس امیر کو تبدیل نہیں کروں گا جسے حضرت ابو عبیدہ نے امیر مقرر کیا ہے۔بہر حال حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عیاض بن غنم میں سے جو پہلے حیرہ پہنچ جائے کو میں ہو اسی کو اس علاقے میں جنگی کارروائی کرنے والی فوج کی قیادت حاصل ہو گی۔687 ایک روایت کے مطابق حضرت خالد بن ولید جب یمامہ سے فارغ ہو گئے تو حضرت ابو بکر نے انہیں لکھا کہ فَرْجُ الهند یعنی ابلہ سے آغاز کریں اور عراق کے بالائی علاقے سے عراق پہنچیں اور