اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 286 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 286

اصحاب بدر جلد 2 286 حضرت ابو بکر صدیق الله اور آدھا ملک قریش کے لیے ہے۔اور رسول کریم صلی ایم کی وفات کے بعد اس نے حجر اور یمامہ میں سے ان کے مقرر کردہ والی تمامہ بن اثال کو نکال دیا اور خود اس علاقہ کا والی بن گیا تھا۔اور اس نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔اسی طرح مدینہ کے دو صحابہ حبیب بن زید اور عبد اللہ بن وہب ہو اس نے قید کر لیا اور ان سے زور کے ساتھ اپنی نبوت منوانی چاہی۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ عبد اللہ بن وہب نے تو ڈر کر اس کی بات مان لی مگر حبیب بن زید نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔اس پر مسیلمہ نے ان کا عضو عضو کاٹ کر آگ میں جلا دیا۔اسی طرح یمن میں بھی جو رسول کریم صلی اللہ ولیم کے افسر مقرر تھے ان میں سے بعض کو قید کر لیا اور بعض کو سخت سزائیں دی گئیں۔اسی طرح طبری نے لکھا ہے کہ اسود عنسی نے بھی علم بغاوت بلند کیا تھا اور رسولِ کریم صلی علی کمی کی طرف سے جو حکام مقرر تھے ان کو اس نے تنگ کیا تھا اور ان سے زکوۃ چھین لینے کا حکم دیا تھا۔پھر اس نے صنعاء میں رسولِ کریم ملی ایم کے مقرر کردہ حاکم شہر بن بادان پر حملہ کر دیا۔بہت سے مسلمانوں کو قتل کیا، لوٹ مار کی، گورنر کو قتل کر دیا اور اس کو قتل کر دینے کے بعد اس کی مسلمان بیوی سے جبر انکاح کر لیا۔بنو نجران نے بھی بغاوت کی اور وہ بھی اسود عنسی کے ساتھ مل گئے اور انہوں نے دو صحابہ عمرو بن حزم اور خالد بن سعید کو علاقہ سے نکال دیا۔ان واقعات سے ظاہر ہے کہ مدعیانِ نبوت کا مقابلہ اس وجہ سے نہیں کیا گیا تھا کہ وہ رسول کریم صلی الم کی امت میں سے نبی ہونے کے دعویدار تھے اور رسول کریم ملی ایم کے دین کی اشاعت کے مدعی تھے بلکہ صحابہ نے ان سے اس لیے جنگ کی تھی کہ وہ شریعت اسلامیہ کو منسوخ کر کے اپنے قانون جاری کرتے تھے اور اپنے علاقہ کی حکومت کے دعویدار تھے اور صرف علاقہ کی حکومت کے دعویدار ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے صحابہ کو قتل کیا، اسلامی ملکوں پر چڑھائیاں کیں، قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کی اور اپنی آزادی کا اعلان کیا۔ان واقعات کے ہوتے ہوئے آپ لکھتے ہیں کہ مولانا مودودی صاحب کا یہ کہنا کہ رسول کریم صلی علیکم کے تمام صحابہ نے مدعیان نبوت کا مقابلہ کیا، یہ جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے ؟ اگر کوئی شخص یہ کہہ دے کہ صحابہ کرام انسانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے تھے تو کیا یہ محض اس وجہ سے ٹھیک ہو جائے گا کہ مسیلمہ کذاب بھی انسان تھا اور اسود عنسی بھی انسان تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ: جو لوگ توڑ مروڑ کر اسلام کی تاریخ پیش کرتے ہیں وہ اسلام کی خدمت نہیں کر رہے۔اگر ان کے ر نظر اسلام کی خدمت ہے تو وہ سچ کو سب سے بڑا مقام دیں اور غلط بیانی اور واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے کلی طور پر احتراز کریں۔184 بغاوتوں کا خاتمہ اور بیرونی دشمنوں کا تعاقب بہر حال سر زمین عرب سے ان سب کے ختم ہونے کی وجہ سے بغاوتوں کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ایک تاریخ نگار نے لکھا ہے کہ اب عرب کی تمام بغاوتوں کا خاتمہ ہو چکا تھا اور تمام مرتدین کی سرکوبی کی جاچکی تھی۔حضرت ابو بکر نے اس ملک گیر فتنہ کا جس منصوبہ بندی اور سرعت کے ساتھ قلع قمع کیا وہ آپ کی