اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 267 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 267

حاب بدر جلد 2 267 حضرت ابو بکر صدیق کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایسے وقت میں سمندر کے سامنے پہنچایا جبکہ جزر کا وقت تھا اور حضرت موسیٰ کے ہاتھ اٹھاتے ہی اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت پانی گھٹنا شروع ہو الیکن فرعون کا لشکر جب سمندر میں داخل ہوا تو ایسی غیر معمولی رو کیں اس کے راستے میں پیدا ہو گئیں کہ اس کی فوج بہت سست رفتاری سے بنی اسرائیل کے پیچھے چلی اور ابھی سمندر ہی میں تھی کہ مذ آگئی اور دشمن غرق ہو گیا۔۔۔سمندر میں مڈو جزر پید اہو تا رہتا ہے اور ایک وقت میں پانی کنارے پر سے بہت دور پیچھے ہٹ جاتا ہے اور دوسرے وقت میں وہ خشکی پر اور آگے آجاتا ہے۔سمندر پھاڑنے کے واقعہ کا اسی مدوجزر کی کیفیت سے تعلق ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام ایسے وقت میں سمندر سے گزرے جبکہ جزر کا وقت تھا اور سمند ر پیچھے ہٹا ہو اتھا اور اس کے بعد فرعون پہنچا۔وہ بوجہ اس کے کہ کم سے کم ایک دن بعد حضرت موسیٰ کے چلا تھا وہ مارا مار کرتا ہوا جس وقت سمندر پر پہنچا ہے اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام سمندر کے اس خشک ٹکڑے کا جس سے وہ گزر رہے تھے اکثر حصہ طے کر چکے تھے۔فرعون نے ان کو پار ہوتے دیکھ کر جلدی سے اس میں اپنی رتھیں ڈال دیں مگر سمندر کی ریت جو ٹیلی تھی اس کی رتھوں کے لیے مہلک ثابت ہوئی اور اس کی رتھیں اس میں پھنسنے لگیں اور اس قدر دیر ہو گئی کہ مذ کا وقت آگیا اور پانی بڑھنے لگا۔اب اس کے لیے دونوں باتیں مشکل تھیں۔نہ وہ آگے بڑھ سکتا تھا نہ پیچھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ سمندر نے اسے درمیان میں آلیا اور وہ اور اس کے بہت سے ساتھی سمندر میں غرق ہو گئے اور چونکہ مڈ کا وقت تھا، سمندرکا پانی جو کنارے کی طرف بڑھ رہا تھا اس نے ان کی لاشوں کو خشکی کی طرف لا پھینکا۔بہر حال مسلمان دارین کسی طرح پہنچ گئے تھے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اور وہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسی طرح کا مد و جزر والا کوئی واقعہ ہوا ہو۔دارین پہنچ کر وہاں مسلمانوں کا اور مرتد باغیوں کا مقابلہ ہوا اور نہایت ہی خونریز جنگ ہوئی جس میں وہ سب مارے گئے یعنی باغی مارے گئے۔کوئی خبر دینے والا بھی نہ بچا۔مسلمانوں نے ان کے اہل و عیال کو لونڈی یا غلام بنا لیا اور ان کی املاک پر قبضہ کر لیا۔ہر ایک شہ سوار کو چھ ہزار اور ہر پیادے کو دو ہزار درہم غنیمت میں ملے۔مسلمانوں کو ساحل سمندر سے ان تک پہنچنے اور ان کے مقابلے میں پورا دن صرف ہو گیا۔ان سے فارغ ہو کر وہ پھر واپس آگئے۔640 حضرت ثمامہ بن اثال کی شہادت حضرت تمامہ بن اثال کی شہادت کا واقعہ لکھا ہے کہ حضرت علاء بن حضرمی تمام لوگوں کو واپس لے آئے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے وہیں پر قیام کرنے کو پسند کیا۔حضرت ثمامہ بن اثال بھی واپس آنے والوں میں تھے۔عبد اللہ بن حذف کہتے ہیں کہ ہم بنو قیس بن ثعلبہ کے ایک چشمہ پہ تھے۔لوگوں کی نظر حضرت ثمامہ پر پڑی اور انہوں نے نظم کا چوغہ آپ کے جسم پر دیکھا۔م کا یہ وہی چوغہ تھا جو اس کے قتل ہونے کے بعد مالِ غنیمت میں حضرت ثمامہ کو دیا گیا تھا۔انہوں نے ایک شخص کو دریافت کے لیے بھیجا، یعنی اس قبیلے والوں نے اور اُسے کہا کہ جا کر حضرت محمامہ سے دریافت کرو کہ یہ