اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 266 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 266

حاب بدر جلد 2 266 حضرت ابو بکر صدیق تاریخ طبری میں اس طرح اس کی یہ تفسیر بیان کی گئی لیکن موجودہ زمانے کے بعض مصنف سمندر عبور کرنے کے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ اس وقت خلیج فارس میں جزر آیا ہویا روایات میں مبالغہ ہو اور در حقیقت مسلمانوں کو مقامی باشندوں کے ذریعہ سے کشتیاں دستیاب ہو گئی ہوں جن پر سوار ہو کر انہوں نے سمندر عبور کیا ہو۔لیکن بہر حال روایت میں اس تفصیل کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔مختلف لوگوں نے یہ روایت لکھی ہے۔انہوں نے عبور کرنے کا ذکر کیا ہے لیکن اس میں شبہ نہیں کہ مسلمان دارین پہنچ گئے تھے۔639 کس طرح پہنچے اللہ بہتر جانتا ہے۔باقی رہا معجزات کے بارے میں تو حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی ایک تفسیر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے جو اصولی راہنمائی کی ہے وہ بیان کر دیتا ہوں۔حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہجرت کے وقت سمندر کے پھٹنے والے واقعہ کی تفسیر اور وضاحت کرتے ہوئے بیان فرمایا جو قرآن شریف میں آیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق واقعہ کی کیفیت یہ معلوم ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل ارض مقدس کے ارادے سے چلے جارہے تھے کہ پیچھے سے فرعون کا لشکر آپہنچا۔اسے دیکھ کر بنی اسرائیل گھبر ائے اور سمجھے کہ اب پکڑے جائیں گے لیکن خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی معرفت ان کو تسلی دلائی اور حضرت موسیٰ سے کہا کہ اپنا عصا سمندر پر ماریں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سمندر میں ایک راستہ ہو گیا اور وہ اس میں سے آگے روانہ ہوئے۔ان کے دونوں طرف پانی تھا جو ریت کے ٹیلوں کی مانند یعنی اونچا نظر آتا تھا۔لشکر فرعون نے ان کا پیچھا کیا مگر بنی اسرائیل کے صحیح سلامت پار ہونے پر پانی پھر کوٹا اور مصری غرق ہو گئے۔اب لکھتے ہیں کہ اس واقعہ کے سمجھنے کے لیے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق تمام معجزات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں اور کسی انسان کا اس میں دخل اور تصرف نہیں ہوتا۔پس حضرت موسیٰ کا عصا اٹھانا اور سمندر پر مار نا صرف ایک نشانی کے لیے تھانہ اس لیے کہ حضرت موسی الکا یا عصا کا سمندر کے سمٹ جانے میں کوئی دخل تھا۔اس عصا کا سمندر کے سمٹ جانے میں کوئی دخل تھا۔اسی طرح یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم کے الفاظ سے ہر گز ثابت نہیں کہ سمندر کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے اور اس میں سے حضرت موسی نکل گئے تھے بلکہ قرآن کریم میں اس واقعہ کے متعلق دو لفظ استعمال کیے گئے ہیں، ایک فرق اور ایک اِنْفَلَقَ کا، جن کے معنی جدا ہو جانے کے ہیں۔پس قرآن کریم کے الفاظ کے مطابق اس واقعہ کی یہی تفصیل ثابت ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل کے گذرنے کے وقت سمندر جدا ہو گیا تھا یعنی کنارے سے ہٹ گیا تھا اور جو خشکی نکل آئی تھی اس میں سے بنی اسرائیل گزر گئے تھے اور سمندر کے کناروں پر ایسا ہو جایا کرتا ہے۔چنانچہ نپولین کی ( زندگی ) لائف میں بھی لکھا ہے کہ جب وہ مصر پر حملہ آور ہوا تو وہ بھی اپنی فوج کے ایک حصہ سمیت بحیرہ احمر کے کنارے کے پاس جزر کے وقت گزرا تھا اور اس کے گزرتے گزرتے مڑ کا وقت آگیا اور مشکل سے بچا۔اس واقعہ میں معجزہ یہ تھا یعنی حضرت موسیٰ والے واقعہ میں جو معجزہ تھا یہ تھا