اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 261 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 261

اصحاب بدر جلد 2 261 حضرت ابو بکر صدیق ہوئی۔حضرت علاء نے نماز پڑھائی۔بعض لوگوں نے تیم کر کے نماز پڑھی، پانی نہیں تھا۔بعض کا ابھی تک سابقہ وضو باقی تھا۔جب نماز مکمل ہو گئی تو حضرت علاء اپنے دونوں گھٹنوں کے بل دعا کے لیے بیٹھ گئے اور سب لوگ بھی اسی طرح دو زانو دعا کے لیے بیٹھ گئے اور آہ و زاری کے ساتھ دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا میں لگ گئے۔لوگوں نے بھی اسی طرح کیا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا۔جب سورج کی تھوڑی سی روشنی مشرقی افق میں نمودار ہوئی تو حضرت علاء صف کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا کوئی۔کہ جا کر خبر لائے کہ یہ روشنی کیا ہے؟ ایک شخص اس کام کے لیے گیا۔اس نے واپس آکر کہا کہ یہ روشنی محض سراب ہے۔جہاں روشنی پڑی وہاں چمک پید اہو رہی تھی وہ پانی نہیں تھا بلکہ سراب ہے۔حضرت علا پھر دعا میں مصروف ہو گئے۔دوسری مرتبہ پھر وہ روشنی نظر آئی۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سراب ہے۔تیسری مرتبہ پھر روشنی نمودار ہوئی۔اس مرتبہ خبر دینے والے نے آکر کہا کہ پانی ہے۔حضرت علاء کھڑے ہو گئے اور سب لوگ بھی کھڑے ہو گئے اور پانی کے پاس پہنچے سب نے پانی پیا اور غسل کیا۔وہاں کوئی چشمہ پھوٹ پڑا تھا۔ابھی دن نہیں چڑھا تھا کہ لوگوں کے اونٹ ہر سمت سے دوڑتے ہوئے ان کے پاس آتے ہوئے نظر آئے وہ ان کے پاس آکر بیٹھ گئے۔ہر شخص نے اپنی سواری کو پکڑ لیا اور ان کے سامان میں سے کسی کی کوئی چیز بھی ضائع نہیں ہوئی۔دعا کا یہ معجزہ وہاں ہوا کہ پانی بھی اللہ تعالیٰ نے نکال دیا۔اونٹ بھی واپس آگئے لوگوں نے ان کو بھی پانی پلایا۔پھر دوسری مرتبہ خوب سیر ہو کر پانی پیا اور ان جانوروں کو بھی پلایا اور اپنے ساتھ پانی کا ذخیرہ بھی لے لیا اور پھر خوب آرام کیا۔منجاب بن راشد کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت ابو ہریرہ میرے ساتھ تھے۔جب ہم اس مقام سے ذرا دور نکل گئے تو انہوں نے مجھے سے پوچھا کہ اس پانی کے مقام سے واقف ہو ؟ میں نے کہا کہ میں دیگر تمام عربوں کے مقابلے میں اس علاقے کے چپے چپے سے زیادہ واقف ہوں۔حضرت ابوہریر گا نے کہا کہ تم پھر مجھے اس جگہ لے چلو۔میں نے اونٹ کو موڑا اور ٹھیک اسی پانی والے مقام پر ان کو لے آیا۔وہاں آ کر دیکھا کہ نہ کوئی پانی کا حوض ہے، نہ پانی کا کوئی نشان ہے۔میں نے حضرت ابوہریرہ سے کہا۔بخدا! اگر چہ یہاں مجھے کوئی حوض نظر نہیں آرہا تب بھی میں ضرور یہی کہوں گا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہم نے پانی لیا ہے۔مگر آج سے پہلے کبھی میں نے اس مقام پر صاف اور شیریں پانی نہیں دیکھا تھا۔حالانکہ اس وقت بھی پانی سے برتن لبریز تھے۔حضرت ابو ہریرہ نے کہا کہ اے ابوسفم ! بخدا یہی وہ مقام ہے۔اس لیے میں یہاں آیا ہوں اور تم کو لے کر آیا ہوں۔میں نے اپنے بر تن پانی سے بھرے تھے اور ان کو اس حوض کے کنارے رکھ دیا تھا۔میں نے کہا کہ اگر یہ اللہ کا معجزہ اور اللہ کی طرف سے نازل شدہ رحمت ہے تو میں معلوم کرلوں گا اور اگر یہ محض بارش کا پانی ہے تو اسے بھی معلوم کرلوں گا۔دیکھنے پر معلوم ہوا کہ واقعہ اللہ کا ایک معجزہ تھا جو اس نے ہمیں بچانے کے لیے ظاہر کیا تھا۔اس پر حضرت ابو ہریرہ نے اللہ کی حمد کی۔وہاں سے پلٹ کر پھر ہم اپنے راستے چلے اور هَجَر آکر پڑاؤ کیا۔630