اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 255
اصحاب بدر جلد 2 255 حضرت ابو بکر صدیق رڈ کرتے ہیں۔تعلیم کی خوبصورتی کا مجھے پتا لگا تو اب میری ترجیحات بدل گئی ہیں۔کہنے لگا کہ آپ مکئی ایم کی لائی ہوئی شریعت کی عظمت کا تقاضا ہے کہ آپ میلی لی یم کی تعظیم و توقیر کی جائے۔آنحضرت صلی للی کم کی وفات تک حضرت علاہ بحرین کے عامل رہے۔بعد میں حضرت ابو بکرؓ کے عہدِ خلافت میں بھی اسی عہدے پر قائم رہے اور حضرت عمرؓ نے بھی اپنی خلافت میں انہیں اسی کام پر مقرر کیے رکھا یہاں تک کہ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں ان کی وفات ہو گئی۔614 طبقات ابن سعد کے مطابق ایک دفعہ جب اہل بحرین نے حضرت علاء بن حضرمی کی رسول اللہ صلی ال تیم کے سامنے شکایت کی تو رسول اللہ صلی ا یکم نے انہیں معزول کر دیا اور حضرت ابان بن سعید بن عاص 615 کو والی بنادیا۔5 اور آنحضرت صلی علیہ کم کی وفات کے بعد جب وہاں ارتداد اور بغاوت پھیل گئی تو حضرت ابان مدینہ واپس چلے آئے اور یہ عہدہ چھوڑ دیا اور جب حضرت ابو بکر نے انہیں دوبارہ بحرین بھیجنا چاہا تو یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ آنحضرت صلی ال یکم کے بعد اب کسی کا عامل نہ بنوں گا۔اس پر حضرت ابو بکر نے پھر حضرت علاء بن حضرمی و بحرین کا عامل بنا کر بھیجا جس پر وہ اپنی وفات تک قائم رہے۔حضرت علاء مستجاب الدعوات مشہور تھے۔ان کے بارے میں مختلف روایات آتی ہیں۔حضرت ابو ہریرہ ان کی خوبیوں اور قبولیتِ دعا کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ میں ان سے بڑا متاثر ہوں۔روایت میں بیان کرتے ہیں اور بہت سی باتوں کے علاوہ یہ تھا کہ ایک مرتبہ مدینہ سے بحرین کے ارادے سے چلے کہ راستے میں پانی ختم ہو گیا۔انہوں نے اللہ سے دعا کی تو کیا دیکھا کہ ریت کے نیچے سے ایک چشمہ پھوٹا اور ہم سب سیر اب ہوئے۔پھر حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں علاء کے ساتھ بحرین سے لشکر کے ہمراہ بصرہ کی جانب روانہ ہوا۔ہم لوگ کیاس میں تھے کہ ان کی وفات ہو گئی۔کیاس بنو تمیم کے علاقے میں ایک گاؤں کا نام تھا۔ہم ایسے مقام پر تھے جہاں پانی نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے ایک بادل کا ٹکٹڑ ا ظاہر کیا جس نے ہم پر بارش برسائی۔ہم نے انہیں غسل دیا اور اپنی تلواروں سے ان کے لیے قبر کھو دی۔ہم نے ان کے لیے لحد نہیں بنائی تھی۔تب ہم واپس آئے۔کچھ عرصہ کے بعد جب واپس جاکے دیکھا کہ لحد بنائیں مگر ان کی قبر کا مقام نہیں پایا۔616 ان کی وفات کے متعلق بھی اختلاف ہے۔بعض کے نزدیک آپ کی وفات 14 ہجری میں اور بعض کے نزدیک 121 ہجری میں ہوئی تھی۔7 بحرین کے حالات کے بارے میں ذکر آتا ہے۔بحرین شاہانِ حیرہ کی عمل داری میں تھا اور شاہانِ حیرہ، کسری بادشاہوں کے ماتحت تھے۔حیرہ اسلام سے پہلے شاہانِ عراق کی تخت گاہ تھی۔بحرین کے ساحلی اور تجارتی شہروں میں مخلوط آبادی تھی۔فارسی بھی تھے، عیسائی بھی تھے ، یہودی بھی تھے ، جاٹ 617