اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 214
ناب بدر جلد 2 214 حضرت ابو بکر صدیق کو سر خرو کرنے کے لیے ان کے ساتھ مل گیا۔بھیجا تو اس لیے گیا تھا تا کہ وہاں اصلاح کرے اور فتنہ کا تدارک کرے لیکن یہ مسیلمہ کے ساتھ شامل ہو گیا اور مسیلمہ کی نبوت کا جھوٹا اقرار کرنے کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی الم کی جانب سے ایک جھوٹا قول بھی منسوب کیا کہ مسیلمہ رسول کریم صلی الم کے ساتھ نبوت میں شریک کیا گیا ہے۔یہ بھی اس نے مشہور کر دیا۔قرآن کریم کا علم حاصل کیا تھا اس لیے لوگوں نے اس کی باتوں پر یقین بھی کر لیا۔جب اہل یمامہ نے دیکھا کہ ایک ایسا شخص مسیلمہ کی نبوت کی گواہی دے رہا ہے جو کہ رسول اللہ صلی الیکم کے ساتھیوں میں سے ہے اور وہ لوگوں کو قرآن کریم کی تعلیم سے آگاہ کرنے والا ہے تو ان لوگوں کے لیے مسیلمہ کی نبوت سے انکار کی گنجائش نہ رہی اور لوگ جوق در جوق مسیلمہ کے پاس آکر اس کی بیعت کرنے لگے۔528 مسیلمہ کا سفیر رسول مصلى العلم حضرت حبیب بن زید کو اذیت دے کر قتل کرنا مسیلمہ نے رسول اللہ صلی للی علم کی طرف ایک خط بھی لکھا جس کا متن اس طرح سے ہے کہ اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے محمد رسول اللہ کی طرف۔اما بعد ، نصف زمین ہماری ہے اور نصف قریش کی مگر قریش انصاف نہیں کرتے۔اس کے جواب میں رسول اللہ صلی علیم نے اسے خط لکھا کہ بسم اللہ الرحمن الرحيم محمد نبی صلی علیم کی جانب سے مسیلمہ کذاب کے نام۔اما بعد ، یقین زمین اللہ ہی کی۔ا ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے گا اس کا وارث بنادے گا اور عاقبت متقیوں کی ہی ہوا کرتی ہے اور اس پر سلامتی ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔529 ایک روایت میں ذکر ہے کہ حضرت حبیب بن زید انصاری رسول کریم صلی للی کم کا خط لے کر مسیلمہ کے پاس گئے تھے۔جب انہوں نے یہ خط مسیلمہ کو دیا تو اس نے کہا کہ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔پھر اس نے کہا کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کار سول ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں بہرہ ہوں۔میں سنتا نہیں۔بات ٹال دی۔یہ چاہتا تھا کہ وہ تسلیم کریں کہ وہ بھی نبی ہے۔مسیلمہ بار بار یہی سوال دہراتا رہا۔آپ وہی جواب دیتے رہے اور ہر مرتبہ جب حضرت حبیب اس کے منشا کا جواب نہ دیتے۔جب اسے منشا کا جواب نہ ملتا تو وہ ان کے جسم کا ایک عضو کاٹ دیتا۔ٹارچر کرنے کے لیے کہ اب جواب ہاں میں دو۔وہ ان کا کوئی نہ کوئی عضو کاٹ دیتا۔حضرت حبیب صبر و استقامت کا پہاڑ بنے رہے یہاں تک کہ اس نے آپ کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔اس کے سامنے حضرت حبیب نے جام شہادت نوش کر لیا۔530 مسیلمہ نے یمامہ میں علم بغاوت بلند کر دیا تھا۔اب یہ صرف نبوت کا دعویٰ نہیں ہے بلکہ ظلم بھی ہے۔کس طرح اس نے اپنے آپ کو نبی نہ ماننے والوں سے سلوک کیا۔مسیلمہ نے یمامہ میں علم بغاوت بلند کر دیا اور یمامہ میں سے رسول اللہ صلی علیکم کے عامل حضرت ثمامہ بن اثال کو نکال دیا۔531