اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 203
محاب بدر جلد 2 203 حضرت ابو بکر صدیق نے اذان دی، اقامت کہی اور نماز پڑھی تو ان لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا مگر دوسروں نے کہا کہ نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا۔حضرت ابو قتادہ نے اس بات کی شہادت دی کہ انہوں نے اذان دی، اقامت کہی اور نماز پڑھی۔اس اختلاف شہادت کی وجہ سے حضرت خالد نے ان لوگوں کو قید کر دیا۔مالک بن نویرہ کے قتل کے متعلق دو طرح کی روایتیں ملتی ہیں یہ روایت ہے کہ مالک بن نویرہ کو 500 قتل کیا گیا تھا۔ایک روایت میں ہے کہ اس رات اس قدر شدید سردی تھی کہ کوئی چیز اس کی تاب نہیں لاتی تھی۔جب سر دی اور بڑھنے لگی تو حضرت خالد نے منادی کو حکم دیا۔اس نے بلند آواز سے کہا کہ أَدْفِئُوا أسترا كفر کہ اپنے قیدیوں کو گرم کرو۔یعنی ان کو سردی سے بچانے کا انتظام کرو لیکن بنو کنانہ میں یہ محاورہ مختلف تھا۔یہاں کے محاورے میں اس لفظ کے معنی یہ تھے کہ قتل کرو۔سپاہیوں نے اس لفظ کا مفہوم مقامی محاورے کے اعتبار سے یہ سمجھ لیا کہ ان قیدیوں کے قتل کا حکم دیا گیا ہے۔اس پر انہوں نے ان سب کو قتل کر ڈالا۔حضرت ضرار بن ازور نے مالک کو قتل کیا اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ عبد بن آزور اسدی نے مالک کو قتل کیا تھا۔مگر کلبی کہتے ہیں ضرار بن ازور نے ان کو قتل کیا تھا۔حضرت خالد بن ولید موجب شور و غل سنائی دیا تو وہ اپنے خیمہ سے باہر آئے مگر اس وقت تک سپاہی ان سب قیدیوں کا کام تمام کر چکے تھے۔اب کیا ہو سکتا تھا۔انہوں نے کہا اللہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے وہ تو بہر حال ہو کر رہتا ہے۔501 دوسری روایت یہ بھی ہے کہ حضرت خالد نے مالک بن نویرہ کو اپنے پاس بلایا۔سجان کا ساتھ دینے اور زکوۃ روکنے کے سلسلہ میں اس کو تنبیہ فرمائی اور اسے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ زکوۃ نماز کی ساتھی ہے یعنی دونوں ایک جیسے ہی حکم ہیں اور تم نے زکوۃ کو دینے سے انکار کر دیا تھا۔مالک نے کہا تمہارے صاحب کا یہی خیال تھا یعنی بجائے اس کے کہتا کہ رسول اللہ صلی الی یوم کا یہ خیال تھا۔رسول کے بجائے صاحب یا سا تھی کہہ کر پکارا۔حضرت خالد نے فرمایا کیا وہ ہمارے صاحب ہیں۔تمہارے صاحب نہیں؟ پھر حکم دیا اے خیر ار اس کی گردن اڑا دو۔پھر اس کی گردن اڑا دی گئی۔مالک بن نویرہ کے قتل پر رد عمل 502 اس کے مرنے کی ایک روایت یہ ہے۔تواریخ کی روایات کے مطابق اس سلسلہ میں ابو قتادہ نے خالد سے گفتگو کی اور دونوں کے درمیان بحث ہوئی اور ابو قتادہ حضرت خالد سے اختلاف کرتے ہوئے لشکر کو چھوڑ کر حضرت ابو بکر کے پاس چلے آئے اور حضرت ابو بکر سے شکایت کی کہ خالد نے مالک بن نویرہ کو قتل کروایا ہے جبکہ وہ مسلمان تھا اور پھر اس کی بیوی سے شادی کر لی ہے اور نہ ہی عرب کے لوگ دورانِ جنگ اس طرح کی شادی کو اچھی بات سمجھتے تھے۔حضرت عمرؓ نے بھی ابو قتادہ کے موقف کی پر زور حمایت کی۔503