اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 169 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 169

ناب بدر جلد 2 169 حضرت ابو بکر صدیق نے کلی طور پر اسلام سے دوری اختیار کرلی اور بعض نے زکوۃ کی ادائیگی سے انکار کیا تو حضرت ابو بکڑ نے ان سب کے خلاف قتال کیا۔کتب تاریخ اور سیرت میں ایسے تمام افراد کے لیے مرتدین کا لفظ استعمال ہوا ہے۔جس کی وجہ سے بعد میں آنے والے سیرت نگار اور علماء کو غلطی لگی یا وہ غلط تعلیم پھیلانے کا باعث بنے کہ گویا مرتد کی سزا قتل ہے اور اسی لیے حضرت ابو بکر نے تمام مرتدین کے خلاف اعلانِ جہاد کیا اور ایسے سب لوگوں کو قتل کروا دیا سوائے اس کے کہ وہ دوبارہ اسلام قبول کر لیں اور یوں ان مؤرخین اور سیرت نگاروں نے حضرت ابو بکر کو عقیدہ ختم نبوت کا محافظ اور اس کے ہیرو کے طور پر پیش کیا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ خلافت راشدہ کے اس دور میں ختم نبوت اور عقیدہ ختم نبوت کے اس طرح کے تحفظ کی کوئی سوچ یا نظریہ موجود ہی نہیں تھا اور نہ ہی ان لوگوں کے خلاف اس لیے تلوار اٹھائی گئی تھی کہ ختم نبوت کو کوئی خطرہ تھا یا مرتد کی سزا چونکہ قتل تھی اس لیے ان کو قتل کیا جائے۔اس کی تفصیل تو آگے بیان ہو گی اور اس بارے میں تو بیان ہو گا کہ ان کے خلاف اعلان جنگ کیوں کیا گیا؟ لیکن اس سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ کیا قرآن کریم نے یا آنحضرت صلی ایم نے مرتد کی سزا قتل بیان کی ہے یا کوئی اور سزا بھی مقرر کی ہے؟ اسلامی اصطلاح میں مرتد اس کو کہا جاتا ہے جو دین اسلام سے انحراف کر جائے اور اسلام قبول کرنے کے بعد پھر دائرہ اسلام سے نکل جائے۔جب ہم قرآنِ کریم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہوں پر مرتد ہونے والوں کا با قاعدہ ذکر تو فرمایا ہے لیکن ان کے لیے قتل یا کسی بھی قسم کی دنیاوی سزا دینے کا ذکر نہیں کیا۔چنانچہ چند آیات نمونے کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔پہلی آیت یہ ہے کہ وَ مَنْ يَرْتَدِدُ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمْتُ وَهُوَ كَافِرُ فَأُولَبِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَأُولَبِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فيهَا خُلِدُونَ (البقر 21857) یعنی اور تم میں سے جو بھی اپنے دین سے برگشتہ ہو جائے پھر اس حال میں مرے کہ وہ کافر ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا میں بھی ضائع ہو گئے اور آخرت میں بھی اور یہی وہ لوگ ہیں جو آگ والے ہیں۔اس میں وہ بہت لمبا عرصہ رہنے والے ہیں۔اس آیت میں بیان ہوا ہے کہ تم میں سے جو کوئی میر تد ہو جائے اور آخر کار اسی کفر کی حالت میں مر جائے۔اس سے خوب واضح ہو رہا ہے کہ مرتد کی سزا قتل نہ تھی کیونکہ اگر اس کی سزا قتل ہوتی تو یہ بیان نہ ہوتا کہ ایسا مرتد آخر کار کفر کی حالت میں مر جائے۔پھر ایک جگہ فرمایا: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَةً اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَفِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لابِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (الماء (557) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم میں سے جو اپنے دین سے مرتد ہو جائے تو ضرور اللہ اس کے بدلے ایک ایسی قوم لے آئے گا جس سے وہ محبت کرتا ہو اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں۔مومنوں پر وہ بہت مہربان ہوں گے اور کافروں پر بہت سخت۔وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا کوئی خوف نہ رکھتے ہوں