اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 153 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 153

محاب بدر جلد 2 153 403 حضرت ابو بکر صدیق کہ نئے منتخب ہونے والے خلیفہ ابو بکر نے حکم دیا کہ اسامہ کا لشکر نبی لی لی ایم کی خواہشات کی تکمیل کے لیے بدستور جائے گا اگر چہ قبائل میں پہلے ہی بغاوت چل رہی تھی۔اسامہ ملک شام میں بلقاء کے علاقے میں پہنچے جہاں زید کو مارا گیا تھا اور اسامہ نے اُبٹی کی بستی پر حملہ کیا ان کی فتح سے اہل مدینہ جو کہ ارتداد کی خبروں کی وجہ سے شدید پریشان تھے ان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔پس اس مہم نے ایک عمومی مہم کی حیثیت سے زیادہ بڑھ کر اہمیت حاصل کرلی جس کی وجہ سے اس مہم کو فتح شام کا پیش خیمہ قرار دیا گیا۔پھر حضرت ابو بکر کو جو ایک اور چیلنج کا سامنا کرنا پڑا وہ تھا مانعین اور منکرین زکوۃ اور ان کا فتنہ جب رسول اللہ صلی علیم کی وفات کی خبر سارے عرب میں پھیل گئی تو ہر طرف ارتداد اور بغاوت کے شعلے بھڑ کنے لگے۔علامہ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللی کم کی وفات کے وقت تمام عرب نے ارتداد اختیار کر لیا ما سوائے دو مسجد والوں کے یعنی مکہ اور مدینہ کے۔رسول اللہ صلی للی کم کی وفات کے بعد اہل مکہ ارتداد سے محفوظ رہے جس کی تفصیل یوں ملتی ہے کہ سہیل بن عمرو جنہوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا وہ غزوہ بدر میں کافر ہونے کی حالت میں مسلمانوں کے قیدی بنے۔انہوں نے اپنے ہونٹوں پر نشان بنارکھے تھے۔حضرت عمرؓ نے اس موقع پر رسول اللہ صلی علیم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ! اس کے سامنے والے دو دانت نکلوا دیں جہاں اس نے نشان بنائے ہوئے ہیں۔یہ آپ صلی الی ظلم کے خلاف کبھی بھی خطاب کرنے کے لیے کھڑا نہیں ہو سکے گا۔آپ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عمر ! اسے چھوڑ دو قریب ہے کہ یہ ایسے مقام پر کھڑا ہو کہ تم اس کی تعریف کرو۔حضرت عمر تو اس کو سزا دلوانا چاہتے تھے۔آنحضرت صلی الم نے کہا نہیں، کچھ نہیں کہنا۔ایک موقع آئے گا جب یہ اس مقام پر کھڑا ہو گا اور ایسی باتیں کرے گا کہ تم اس کی تعریف کرو گے۔بہر حال وہ کہتے ہیں کہ یہ مقام اس وقت آیا جب رسول اللہ صلی الیکم کی وفات ہوئی تو مکہ والے متزلزل ہو گئے۔جب قریش نے اہل عرب کو مرتد ہوتے دیکھا اور حضرت عتاب بن اسید اُموی جو کہ نبی کریم صلی علیم کی طرف سے اہل مکہ پر امیر مقرر تھے وہ چھپ گئے تو اس وقت حضرت سہیل بن عمرو خطاب کرتے ہوئے کھڑے ہوئے اور کہا: اے قریش کے گروہ ! آخر میں اسلام لا کر سب سے پہلے ارتداد اختیار کرنے والے نہ بننا۔خدا کی قسم ! یہ دین اسی طرح پھیلے گا جس طرح کہ چاند اور سورج طلوع سے غروب تک پھیلتے ہیں۔اس طرح آپ نے یعنی سہیل نے ایک طویل خطاب کیا۔چنانچہ اس خطاب نے مکہ والوں کے دلوں پر اثر کیا اور رک گئے۔حضرت عتاب بن اسنیڈ جو چھپ گئے تھے وہ بھی بلائے گئے اور قریش اسلام پر ثابت قدم ہو گئے۔404 ارتداد کرنے والے لوگ کون تھے۔۔۔الله وہ لوگ جنہوں نے ارتداد اختیار کیا تھا ان کی متعدد اقسام تھیں۔ان کا ذکر کرتے ہوئے حضرت ابو بکر کی سیرت پر ایک لکھنے والے لکھتے ہیں کہ ارتداد کی بھی مختلف شکلیں رہی ہیں۔کچھ لوگوں نے تو