اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 151 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 151

حاب بدر جلد 2 151 396 حضرت ابو بکر صدیق اور ایک روایت کے مطابق انہیں یکم ربیع الثانی گیارہ ہجری کو روانہ فرمایا۔حضرت اسامہ نہیں راتوں کا سفر طے کر کے اہل انٹی کے پاس پہنچے اور ان پر اچانک حملہ کر دیا اور مسلمانوں کا شعار یا مَنْصُورُ آمِت تھا۔یعنی اے منصور امار دو۔یعنی جو بھی مقابلہ کرنے آیا ہے اسے مارو۔جو اُن کے سامنے آیا اسے قتل کر دیا اور جس پر قابو پالیا اسے قیدی بنالیا۔حضرت اسامہ نے ان کے میدانوں میں اپنے گھڑ سواروں کو گشت کرایا۔اس روز جو کچھ انہیں مال غنیمت ملا اسے سنبھالنے میں مصروف رہے۔حضرت اسامہ اپنے والد کے سبحه نامی گھوڑے پر سوار تھے اور انہوں نے حملہ کر کے اپنے والد کے قاتل کو بھی قتل کر دیا۔جب شام ہو گئی تو حضرت اسامہ نے لوگوں کو کوچ کا حکم دیا اور اپنی رفتار تیز کر دی۔آپ کو راتوں میں وادی القریٰ پہنچ گئے اور آپ نے خوشخبری دینے والوں کو مدینہ روانہ کیا کہ وہ لشکر کی سلامتی کی خبر دے۔اس کے بعد انہوں نے روانگی کا قصد کیا اور چھ راتوں میں مدینہ پہنچ گئے۔اس معرکہ میں مسلمانوں کا کوئی آدمی بھی شہید نہیں ہوا۔جب یہ کامیاب اور فاتح لشکر مدینہ پہنچا تو حضرت ابو بکر مہاجرین اور اہل مدینہ کے ساتھ لشکر کی سلامتی پر خوش ہوتے ہوئے ان کو ملنے کے لیے باہر نکلے۔حضرت اسامہ اپنے والد کے گھوڑے پر سوار ہو کر داخل ہوئے اور حضرت بریدہ بن حصیب آپ کے آگے جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے یہاں تک کہ آپ مسجد نبوی پہنچے۔آپ نے مسجد میں داخل ہو کر دور کعات پڑھیں۔پھر آپ اپنے گھر چلے گئے۔متفرق روایات کے مطابق یہ لشکر چالیس سے لے کر ستر روز تک باہر رہنے کے بعد مدینہ واپس پہنچا تھا۔398 397 399 لکھا ہے کہ غالباً یہ آنحضرت صلی علی کم سے حضرت ابو بکر کی محبت کا سبب تھا کہ اسامہ کے جس جھنڈے کو آنحضرت صلی للی یکم نے خود اپنے ہاتھ سے گرہ لگائی تھی حضرت ابو بکر نے فرمایا تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ابن ابو قحافہ اس جھنڈے کی گرہ کھول دے جو نبی اکرم صلی علیم نے خود اپنے ہاتھ سے لگائی ہے۔چنانچہ لشکر اسامہ کی واپسی پر اس جھنڈے کی گرہ نہ کھولی گئی اور وہ جھنڈ ابعد میں بھی حضرت اسامہ کے گھر میں ہی رہا یہاں تک کہ حضرت اسامہ کی وفات ہو گئی۔9 لشکر اسامہ کے اثرات کے بارے میں لکھا ہے کہ اس لشکر کے بہت ہی اہم اور دور رس اثرات ظاہر ہوئے: ایک تو یہ کہ وہ سب لوگ جو کہ پہلے بہت شدت سے قائل تھے کہ حالات کا تقاضا ہے کہ لشکر اسامہ کو ابھی نہیں بھیجنا چاہیے وہ جان گئے کہ خلیفہ کا فیصلہ کتنا بر وقت اور مفید تھا اور وہ جان گئے کہ حضرت ابو بکر بہت ہی عمیق نظر اور فہم و فراست کے حامل تھے ، نمبر دو یہ کہ اس لشکر کی روانگی سے قبل قبائل عرب میں مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی اور وہ سوچنے لگے کہ اگر مسلمانوں کے پاس قوت نہ ہوتی تو لشکر روانہ نہ کرتے۔اس کا ان پر کافی رعب پڑا؛ تیسری بات یہ کہ عرب کی سرحدوں پر نظریں لگائے غیر ملکی قوتیں خاص طور پر رومیوں پر مسلمانوں کار عب طاری ہو گیا۔رومی کہنے لگے یہ کیسے لوگ ہیں کہ